Bharat Express DD Free Dish

Government sites start trying Hindi web addresses: ہندوستانی حکومت کی ویب سائٹس پر ہندی ڈومین کا آغاز، ہندی میں انٹرنیٹ تک رسائی کا ایک نیا دور

ہندوستانی حکومت کی طرف سے یہ اقدام ہندوستانی زبانوں کے لیے ایک اہم قدم ہے، اور امید کی جاتی ہے کہ دوسرے خطوں میں بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔

ہندی ویب ایڈریس اب مرکزی حکومت کی کئی اہم ویب سائٹس پر استعمال ہونے لگا ہے۔ یہ اقدام یونیورسل ایکسیپٹن ( یو اے) تحریک کی حمایت میں سامنے آیا ہے، جو انگریزی کے علاوہ دیگر زبانوں میں انٹرنیٹ کو دستیاب اور قابل رسائی بنانے کے لیے کام کرتا ہے۔ یو اے کے تحت دو بڑی کوششوں میں بین الاقوامی ڈومین نام (IDNs)اور ای میل ایڈریس شامل ہیں۔

حال ہی میں وزارت داخلہ نے homeministry.gov.in کو اپنے مرکزی ویب ایڈریس کے طور پر اپنایا ہے۔ ہندی اور انگریزی دونوں ورژن اب اس ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ یہ سائٹ پہلے کے انگریزی URL (mha.gov.in) کا عکس ہے، جو اب ہندی ڈومین کے طور پر بھی دستیاب ہے۔ یہ تبدیلی ہندوستان کے .in کنٹری کوڈ ٹاپ لیول ڈومین کے بجائے ہندوستانی زبان کے مساوی استعمال کرتی ہے۔

تاریخی طور پر بین الاقوامی ویب اور ای میل ایڈریس ایک چیلنج رہے ہیں، کیونکہ ڈومین نیم سسٹم (ڈی این ایس)اور ویب براؤزنگ کے بیک اینڈ پروسیس ASCII میں مبنی ہیں، جو بنیادی طور پر انگریزی زبان کے کریکٹر سیٹ پر انحصار کرتے ہیں۔ اس نظام میں غیر انگریزی زبانیں اور لاطینی رسم الخط کی مختلف قسمیں شامل نہیں تھیں۔

محققین نے 1980 کی دہائی سے اس حد پر قابو پانے کی کوشش کی ہے، اور اب زیادہ تر ویب براؤزرز اور تجارتی ای میل سروسز IDNs کو سپورٹ کرتی ہیں، حالانکہ یہ بیک ڈور کے ذریعے کام کرتا ہے ،جس میں غیر لاطینی URLs کو “Punicode” شارٹ ہینڈ کے طور پر پروسیس کیا جاتا ہے، جسے یوزر حتمی ویب سائٹ ایڈریس کے طور پر دیکھتا ہے۔

حکومت نے ہمیشہ .Bharat IDN کو اپنانے کو فروغ دیا ہے، جس میں ہندی کے علاوہ 22 علاقائی زبانیں بھی شامل ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس اقدام کو نجی شعبے میں محدود قبولیت حاصل ہوئی ہے۔ سرکاری ویب سائٹس جیسے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت، نیشنل انٹرنیٹ ایکسچینج آف انڈیا (NIXI) اور اقلیتی امور کی وزارت نے ہندی ویب ایڈریس کو اپنایا ہے۔

اس سمت میں پرائیویٹ سیکٹر کا حصہ ابھی بھی کم ہے، اور زیادہ تر ہندوستانی زبان کی سائٹس کا ڈومین ابھی بھی انگریزی رسم الخط میں ہے۔ قابل ذکر با ت یہ ہے کہ  اب جب کہ IDNs کو زیادہ تر بڑے براؤزرز اور ای میل سسٹمز کی مدد حاصل ہے، اس تبدیلی کو اپنانے کے لیے ایک مضبوط وجہ کی ضرورت ہے۔

اجے ڈیٹا، ایک ٹیک سی ای او اور UA تحریک کے حامی، نے کہا، “آئیے صرف آگاہی اور بات چیت کے مسائل سے آگے بڑھ کر فوائد کے بارے میں بات کریں۔ اب ہمیں ان علاقائی زبانوں کے ویب ایڈریسز کے لیے ایک ٹھوس فائدہ دیکھانے کی ضرورت ہے۔”

ہندوستانی حکومت کی طرف سے یہ اقدام ہندوستانی زبانوں کے لیے ایک اہم قدم ہے، اور امید کی جاتی ہے کہ دوسرے خطوں میں بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔