ہماچل پردیش کے سریمور سے ایک حیران کن خبر سامنے آئی ہے۔ علاقے کی ٹرانسپورٹ افسر (RTO) سونا چندیل نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر اپنے شوہر کی اسکوٹی کا ہی چالان کر دیا۔ آر ٹی او چندیل نے اپنے محکمے کی سرکاری گاڑی کو بھی نہیں بخشا اور جرمانہ لگا دیا، جس کے بعد یہ خاتون افسر ہر طرف سے تعریف کے قابل ٹھہری۔ لوگ انہیں سختی اور ایمانداری کی مثال قرار دے رہے ہیں۔ یہ واقعہ 20 دسمبر 2025 کا ہے۔ صبح صبح آر ٹی او سونا چندیل اپنے عملے کے ساتھ گاڑیوں کی چیکنگ پر نکلی تھیں۔ اسی دوران ان کے بیریئر کے عملے نے بھی ذاتی گاڑی استعمال کرتے ہوئے پکڑے گئے۔ جب ان سے گاڑی سے متعلق کاغذات کے بارے میں پوچھا گیا، تو سب نے کہا کہ تمام کاغذات مکمل ہیں۔
پولیوشن سرٹیفکیٹ نہ ہونے پر چالان
اسی دوران ایک ملازم نے دھیمے لہجے میں بتایا کہ آپ کی سرکاری گاڑی (HP 63 C-7365) کا پولیوشن سرٹیفکیٹ ختم ہو چکا ہے۔ یہ سن کر سونا چندیل نے اپنی ہی گاڑی کا 500 روپے کا چالان کر دیا اور فوری طور پر گاڑی کا پولیوشن سرٹیفکیٹ بھی بنوا لیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ معلومات دو ہفتے تک عوام تک نہیں پہنچی۔
شوہر کا بھی چالان کیا گیا
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ آر ٹی او سونا چندیل نے ایسا فیصلہ لیا ہو۔ اس سے پہلے، 27 مئی 2025 کو ایک چیکنگ کے دوران انہوں نے اپنے شوہر کی اسکوٹی پر ہائی سکیورٹی رجسٹریشن پلیٹ نہ ہونے پر 3000 روپے کا چالان لگایا تھا۔ معلومات کے مطابق، یہ پیسے انہوں نے خود اپنی جیب سے ادا کیے تھے۔
کارکردگی میں مثال
سونا چندیل کو ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کی سب سے تیز اور قابل افسران میں شمار کیا جاتا ہے۔ سال 2024-25 میں انہوں نے چالان کے ذریعے حکومت کے لیے تقریباً 2.5 کروڑ روپے کا ریونیو جمع کروایا، جبکہ حکومت نے صرف ڈیڑھ کروڑ روپے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ یہ واقعہ نہ صرف ایمانداری کی مثال ہے بلکہ ظاہر کرتا ہے کہ قانون کے نفاذ میں کوئی رعایت نہیں کی گئی، چاہے معاملہ ذاتی یا سرکاری گاڑی کا ہی کیوں نہ ہو۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

