مونو مانیسر کو راجستھان جیل سے پٹودی لایا گیا۔
مونو مانیسرکو ہریانہ پولیس قتل کے کوشش کے ایک معاملے میں پوچھ گچھ کے لئے ہفتہ کے روز راجستھان کے اجمیر جیل سے پٹودی لے کرآئی ہے۔ پولیس نے اسے گروگرام کی ایک عدالت میں پیش کرکے 7 دنوں کا ریمانڈ مانگا، جس کے بعد عدالت نے 4 دنوں کا ریمانڈ دے دیا ہے۔ فی الحال پولیس مونو مانیسر کو پٹودی تھانے میں پوچھ گچھ کے لئے لے گئی ہے۔ واضح رہے کہ مونومانیسر کا نام نوح تشدد میں بھی سامنے آیا ہے۔ اسے راجستھان سے ہریانہ لایا گیا ہے۔ ایڈوکیٹ کلبھوشن بھاردواج نے بتایا کہ پولیس کو مونو مانیسر کی چار دنوں کی ریمانڈ ملی ہے۔ فی الحال مونو مانیسرچار دن کے لئے پٹودی تھانے میں پولیس پوچھ گچھ کرے گی۔ چار دنوں کے بعد پھر پٹودی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
مونو مانیسر پر راجستھان کے دو مسلم نوجوانوں (ںاصراورجنیند) کو ہریانہ کے بھیوانی میں گاڑی میں بند کرکے زندہ جلانے کا الزام ہے۔ نوح فساد میں ایس آئی ٹی نے مونو مانیسر کو گرفتار کرکے کچھ دن پہلے عدالت میں پیش کیا تھا، جہاں سے اسے راجستھان پولیس ٹرانزٹ ریمانڈ پر لے کرگئی۔ تب سے مونو مانیسر راجستھان کے اجمیر جیل میں بند ہے۔ نوح شدد کرانے کے الزام میں مونو مانیسرکا نام سامنے آیا تھا۔
مونو مانیسر کرتا ہے یہ دعویٰ
حالانکہ مونومانیسرسوشل میڈیا کے ذریعہ اپنے اوپرلگے تمام الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔ مونومانیسر کا نام خطرناک گینگسٹرلارنس بشنوئی سے بھی منسلک ہے۔ پولیس اس اینگل سے بھی جانچ کررہی ہے۔ راجستھان پولیس کی حراست میں جانے کے بعد پوچھ گچھ میں مونومانیسرکے پاس غیرقانونی ہتھیارہونے کی بات بھی سامنے آئی تھی۔
مونو مانیسرپرقتل کی کوشش کا معاملہ درج
مونومانیسرپرقتل کی کوشش کا پٹودی تھانہ میں معاملہ درج ہے۔ اس معاملے میں پوچھ گچھ کے لئے مونومانیسرکولانے پٹودی پولیس کئی دنوں سے کوشش کر رہی تھی۔ اب سے پہلے تو سیکورٹی وجوہات سے مونو مانیسر کو پٹودی نہیں لایا جاسکا تھا۔ ہفتہ کے روز تقریباً 11 بجے بھاری پولیس سیکورٹی کے درمیان مونو مانیسر کو پٹودی میں لایا گیا۔ وہاں انہیں میڈیکل چیک اپ کے لئے لے جایا گیا ہے۔ اسپتال اور تھانہ میں سیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔ میڈیکل کرانے کے بعد اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
