گوالیار میں پولیس نے اسپاء سینٹر کی آڑ میں مبینہ طور پر چلائے جا رہے جسم فروشی کے کاروبار کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے۔ اندرگنج سی ایس پی رابن جین کی قیادت میں پولیس کی مشترکہ ٹیم نے شہر کے ایس ٹی ایل اسپاء سینٹر پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران وہاں 2 نوجوان اور 2 لڑکیاں قابلِ اعتراض حالت میں ملیں۔ تلاشی کے دوران موقع سے مختلف قابلِ اعتراض اشیا بھی برآمد ہوئیں۔
اسپاء سینٹر کے اندر قابلِ اعتراض حالت میں ملے 4 افراد
پولیس کی ٹیم جب اسپاء سینٹر کے اندر پہنچی تو وہاں 2 نوجوان اور 2 لڑکیاں قابلِ اعتراض حالت میں موجود تھیں۔ تلاشی کے دوران پولیس کو موقع سے مختلف قابلِ اعتراض اشیا بھی ملیں، جنہیں ضبط کرلیا گیا۔پولیس نے اسپاء سینٹر کی مینیجر راگنی یادو کو حراست میں لے لیا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد اور مینیجر سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
اسپاء کی آڑ میں مبینہ جسم فروشی کا کاروبار
ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ اسپاء سینٹر کی آڑ میں مبینہ طور پر جسم فروشی کا کاروبار چلایا جا رہا تھا۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ یہاں گاہکوں کو اسپاء اور مساج سروس کے نام پر بلایا جاتا تھا، لیکن اندر مبینہ طور پر جسم فروشی کی سہولت فراہم کی جاتی تھی۔
بتایا جا رہا ہے کہ اس کے عوض فی شخص 2,500 سے 3,000 روپے تک وصول کیے جاتے تھے۔ پولیس اس پورے معاملے کی تفصیلی تحقیقات کر رہی ہے۔
اسپاء سینٹر سیل
کارروائی کے دوران پولیس نے اسپاء سینٹر کو سیل کردیا۔ موقع سے حراست میں لیے گئے 2 نوجوانوں، 2 لڑکیوں اور مینیجر راگنی یادو کو تھانہ کمپو لے جایا گیا، جہاں ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
پولیس یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ مبینہ طور پر چلائے جا رہے اس نیٹ ورک میں مزید کتنے افراد شامل ہیں اور اس کا دائرہ کہاں تک پھیلا ہوا ہے۔
موبائل فون اور دیگر شواہد کی جانچ
پولیس افسران کے مطابق معاملے کی گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ موبائل فون، دستاویزات اور دیگر شواہد کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کی بنیاد پر مزید افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


