گوہاٹی کرائم برانچ نے معروف صحافی اور یوٹیوبر ابھیسار شرما کے خلاف ایک مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایف آئی آر ایک مقامی شہری الوک بروآ کی شکایت پر درج کی گئی، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ شرما نے یوٹیوب پر ایک ایسا ویڈیو شائع کیا جس میں آسام اور مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی گئی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ ایف آئی آر بھارتیہ نیاے سنہتا 2023 (BNS) کی دفعات 152 (بغاوت)، 195 اور 196 کے تحت درج کی گئی ہے۔ شکایت کنندہ الوک بروآ نے الزام لگایا ہے کہ ابھیسار شرما نے دانستہ طو رپر بدنیتی کے ساتھ ایک ایسا ویڈیو اپلوڈ کیا جس میں آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کو فرقہ وارانہ سیاست کرنے کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو میں ایسے بیانات شامل ہیں جو نہ صرف عوامی جذبات کو بھڑکاتے ہیں بلکہ منتخب حکومتوں کو بدنام کرنے اور مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان دشمنی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایف آئی آر میں درج مواد کے مطابق ابھیسار شرما نے اپنی ویڈیو میں ’’رام راجیہ‘‘ کے اصولوں کا مذاق اڑایا اور آسام کی حکومت کو ’کرپٹ، فرقہ وارانہ اور ناجائز‘ قرار دیا، جو ملک کی سالمیت، اتحاد اور ہم آہنگی کے لیے خطرہ ہے۔ شکایت کنندہ کے مطابق یہ ویڈیو محض سیاسی یا حکومتی پالیسیوں پر تنقید نہیں بلکہ ایک شعوری کوشش ہے کہ جس سے عوام میں حکومت کے خلاف بے اعتمادی پیدا کی جائے اور عوامی نظم و نسق میں خلل ڈالا جائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیو کے مکمل متن اور سیاق و سباق کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس معاملے میں مزید قانونی کارروائی زیر غور ہے۔ مرکزی انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ابھیسار شرما کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم یہ مقدمہ صحافتی آزادی اور اظہار رائے کی حدود سے متعلق ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




