Bharat Express DD Free Dish

UPI payment without PIN possible with biometrics: صارفین کے لیے بڑی خوشخبری، یوپی آئی میں انقلابی تبدیلی کی تیاری، بایو میٹرک سے بغیر پن کے ادائیگی ممکن

اس نئی سہولت کو جلد ہی پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر کچھ علاقوں میں لانچ کیا جا سکتا ہے اور پھر اس کی توسیع پورے ملک میں کی جائے گی۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق چلا، تو یو پی آئی ادائیگی کا یہ نیا دور پن فری، تیز، محفوظ اور صارف دوست ہوگا۔

نئی دہلی: یو پی آئی کے ذریعے ادائیگی کرنے والوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) یو پی آئی میں ایک نئی بایو میٹرک تکنیک متعارف کروانے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے تحت صارفین کو ادائیگی کے وقت پن (PIN) درج کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اب صرف فنگر پرنٹ، فیس آئی ڈی یا آئرس اسکین کے ذریعے ہی ادائیگی ممکن ہو سکے گی۔

پن نمبر کی جھنجھٹ ختم، ایک ٹچ یا چہرے سے ادائیگی

این پی سی آئی کی طرف سے تیار کی جا رہی یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان صارفین کے لیے فائدہ مند ہوگی جو یا تو پن یاد رکھنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں یا ڈیجیٹل تکنیک میں کمزور ہیں۔ یہ طریقہ استعمال میں آسان ہونے کے ساتھ ساتھ سیکورٹی کے اعتبار سے بھی زیادہ مضبوط مانا جا رہا ہے، کیونکہ یہ صارف کے منفرد جسمانی ڈیٹا (جیسے فنگر پرنٹ یا چہرہ) پر مبنی ہوگا، جس سے کسی اور کا جعلی طور پر ادائیگی کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔

ادائیگی کا ممکنہ طریقۂ کار

ذرائع کے مطابق، نئی بایو میٹرک ادائیگی کچھ اس طرح کام کرے گی: صارف کیو آر کوڈ اسکین کرے گا۔ پن ڈالنے کی جگہ بایو میٹرک تصدیق کا آپشن نظر آئے گا۔ صارف فنگر پرنٹ، فیس آئی ڈی یا آئرس اسکین کے ذریعے خود کو ویریفائی کرے گا۔ ادائیگی خود بخود مکمل ہو جائے گی۔ یہ پورا عمل آدھار ڈیٹا اور این پی سی آئی کے درمیان سیدھے انٹرفیس کی مدد سے ہوگا، جس سے ٹرانزیکشن نہ صرف تیز بلکہ محفوظ بھی رہے گا۔

دیہی اور بزرگ صارفین کے لیے خصوصی فائدہ

یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر دیہی علاقوں یا بزرگ صارفین کے لیے نہایت کارآمد ہوگی، جو اسمارٹ فون چلانے یا پن یاد رکھنے میں دقت محسوس کرتے ہیں۔ انہیں صرف فنگر پرنٹ دینا ہوگا یا موبائل کیمرے کے سامنے چہرہ دکھانا ہوگا اور ادائیگی فوری ہو جائے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے علاقے جہاں ڈیجیٹل لین دین کی پہنچ ابھی محدود ہے، وہاں یہ بایو میٹرک یو پی آئی نظام ایک بڑا انقلاب لا سکتا ہے۔

سیکورٹی کے لیے اقدامات

اگرچہ ٹیکنالوجی محفوظ مانی جا رہی ہے، سائبر ماہرین نے بایو میٹرک ڈیٹا کے لیک ہونے کے خطرے کی جانب بھی توجہ دلائی ہے۔ اس پر حکومت اور این پی سی آئی مل کر کام کر رہے ہیں۔ تمام بایو میٹرک ڈیٹا کو انکرپٹڈ (Encrypted) فارمیٹ میں رکھا جائے گا اور بغیر صارف کی اجازت کے اس تک کوئی رسائی ممکن نہیں ہوگی۔

جلد لانچ ہونے کا امکان

اس نئی سہولت کو جلد ہی پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر کچھ علاقوں میں لانچ کیا جا سکتا ہے، اور پھر اس کی توسیع پورے ملک میں کی جائے گی۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق چلا، تو یو پی آئی ادائیگی کا یہ نیا دور پن فری، تیز، محفوظ اور صارف دوست ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read