ملک بھر کے ایئرپورٹس پر گزشتہ ایک ہفتے سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وجہ بنی انڈیگو ایئرلائنز، جس نے اچانک ہزاروں پروازیں منسوخ کر دیں۔ کئی لوگ اپنی منزل تک نہیں پہنچ پائے اور انہیں رات ایئرپورٹ پر ہی گزارنی پڑی، جس کے باعث جگہ جگہ ناراضگی اور احتجاج دیکھنے کو ملا۔
سی ای او کو شوکاز نوٹس جاری
صورتحال بگڑنے پر حکومت حرکت میں آئی اور انڈیگو کے سی ای او پیٹر ایلبرس کو شوکاز نوٹس بھیجا۔ حکومت نے 24 گھنٹوں کے اندر جواب طلب کیا ہے کہ لاکھوں مسافروں کو پریشانی میں ڈالنے کے باوجود کمپنی کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی جائے؟ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کمپنی مسافروں کو بنیادی سہولیات دینے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔
وزارت میں ڈیڑھ گھنٹے کی میٹنگ
انڈیگو میں موجودہ صورت حال کے حوالے سے ہوابازی وزارت اور انڈیگو کے اعلیٰ حکام کے درمیان ڈیڑھ گھنٹے طویل میٹنگ ہوئی ،جس میں پروازوں کی منسوخی اور مسافروں کی دشواریوں پر تفصیل سے بات چیت ہوئی۔
ڈی جی سی اے کی ناراضگی اور سخت سوالات
ڈی جی سی اے نے بھی انڈیگو کو ’کارن بتاؤ‘ نوٹس جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایئرلائن نے نئے FDTL رولز کے مطابق مناسب تیاری نہیں کی تھی۔ آپریشن میں گڑبڑی سے واضح ہے کہ پلاننگ اور مینجمنٹ میں بڑی غلطی ہوئی۔ ساتھ ہی مسافروں کو معلومات اور سہولیات نہ دینا بھی سنگین کوتاہی ہے۔
ریفنڈ اور بیگیج واپس کرنے کا حکم
سول ایوی ایشن وزارت نے انڈیگو کو ہدایت دی ہے کہ تمام زیر التوا ریفنڈ 7 دسمبر رات 8 بجے تک کلیئر کیے جائیں۔ ساتھ ہی جن مسافروں کا بیگیج الگ ہوگیا تھا، اسے 48 گھنٹے کے اندر گھر تک پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے۔
روزانہ 500 سے زائد فلائٹس منسوخ
گزشتہ ایک ہفتے میں روزانہ 500 سے زیادہ پروازیں منسوخ ہوئی ہیں۔ انڈیگو نے اس کی وجہ اسٹاف کی کمی اور ڈی جی سی اےکے نئے قوانین کو بتایا تھا۔ تاہم حکومت نے حالات بہتر ہونے تک نئے رولز کی عمل آوری پر فی الحال روک لگا دی ہے تاکہ مسافروں کو جلد راحت مل سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


