Bharat Express DD Free Dish

Government clarified on Reuters’ X account ban: ہم نے بلاک کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ… رائٹرز کے ایکس اکاؤنٹ پر پابندی کے معاملے میں بھارت سرکار کی وضاحت

بھارتی حکومت نے 6 جولائی کو ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ رائٹرز کے X اکاؤنٹ کو بلاک کرنے کے سلسلے میں کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا۔ اسی بیان کے بعد X کی مالک کمپنی، ایلون مسک کی سربراہی میں، ایک اور وضاحتی بیان سامنے آیا جس میں حکومت پر الزامات لگائے گئے۔

رائٹرز کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر اکاؤنٹ کی بندش کے بعد بھارت کی مرکزی حکومت نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی رائٹرز یا رائٹرز ورلڈ کو بلاک کرنے کا کوئی نیا حکم نامہ جاری نہیں کیا۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق حکومت کا کسی بھی بین الاقوامی نیوز ایجنسی کو بلاک کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔

رائٹرز کو ان بلاک کروانے کے لیے سختی کی گئی: حکومت

بھارتی حکومت نے کہا کہ جیسے ہی رائٹرز کے X ہینڈلز بلاک ہوئے، ہم نے 5 جولائی 2025 کی رات سے X کے ساتھ رابطہ کیا اور ان سے فوری طور پر رائٹرز کو ان بلاک کرنے کو کہا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ہم نے معاملے میں سختی بھی برتی، لیکن X نے تکنیکی امور کا سہارا لیتے ہوئے 21 گھنٹے تک تاخیر کی۔

X  نے تکنیکی تاخیری حربے اپنائے، ہر گھنٹے فالو اپ کے بعد ہوا ان بلاک

حکومت کے مطابق، X  پلیٹ فارم نے یو آر ایل کو ان بلاک کرنے کے عمل کو جان بوجھ کر تاخیر کا شکار بنایا۔ تاہم، حکومت کے مسلسل فالو اپ اور دباؤ کے بعد بالآخر 6 جولائی 2025 کی رات 9 بجے کے بعد رائٹرز اور دیگر یو آر ایل کو ان بلاک کر دیا گیا۔

3 جولائی کو 2,355 اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کا حکم ملا

X  کی گلوبل افیئرز ٹیم نے الزام لگایا تھا کہ بھارت حکومت نے 3 جولائی کو 2,355 اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کا حکم دیا، جن میں @Reuters اور @ReutersWorld جیسے عالمی ادارے شامل تھے۔ کمپنی کے مطابق یہ حکم آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 69A کے تحت دیا گیا تھا، اور عمل نہ کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کا امکان تھا۔

رائٹرز کو بلاک کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا

بھارتی حکومت نے 6 جولائی کو ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ رائٹرز کے X اکاؤنٹ کو بلاک کرنے کے سلسلے میں کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا۔ اسی بیان کے بعد X کی مالک کمپنی، ایلون مسک کی سربراہی میں، ایک اور وضاحتی بیان سامنے آیا جس میں حکومت پر الزامات لگائے گئے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read