گووا کے ‘برچ بائی رومیو لین’ نائٹ کلب کے مالک سوربھ اور گورو لُتھرا کو تھائی لینڈ میں حراست میں لیا گیا ہے۔ اگرچہ اس کی ابھی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی، لیکن نیوز ایجنسی PTI کے مطابق لُتھرا برادران کے خلاف انٹرپول نے بلو کارنر نوٹس جاری کیا تھا، جس کے بعد ان کی گرفتاری کی خبر سامنے آئی ہے۔ اس سے پہلے وزارتِ خارجہ نے ان دونوں کا پاسپورٹ بھی منسوخ کر دیا تھا۔بدھ (10 دسمبر 2025) کو ٹرانزٹ قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کے دوران لُتھرا برادران کی جانب سے پیش وکیل نے ان کے فرار ہونے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کاروباری میٹنگ کے لیے تھائی لینڈ گئے تھے۔ وکیل نے کہا کہ ان پر کسی قسم کی براہ راست یا بالواسطہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ لُتھرا برادران کے وکیل نے عدالت کو بتایا،“میرے دیگر ریسٹورینٹس کو بھی منہدم کر دیا گیا ہے، حکام اور میڈیا دونوں میرے پیچھے پڑے ہیں۔”
عدالت کی جانب سے ریاست سے جواب طلب
گووا پولیس کی طرف سے پیش وکیل نے عارضی تحفظ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ لُتھرا برادران کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری ہیں اور واقعے کے بعد وہ ملک سے فرار ہو گئے تھے۔ پولیس نے بتایا کہ 8 دسمبر کو جب اہلکار لُتھرا برادران کے گھر پہنچے تو ان کے اہلِ خانہ نے
ان کے بارے میں کوئی معلومات دینے سے انکار کر دیا۔ جس پر عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ ضمانت درخواستوں پر اپنا جواب داخل کرے۔
یہ بھی پڑھیں:بہار کے سیتا مڑھی میں ایچ آئی وی سے متاثرہ 398 سے زائد بچے، رپورٹ میں بڑا انکشاف، محکمہ صحت الرٹ
آج ٹرانزٹ ضمانت پر اہم سماعت
ملزمان کی ٹرانزٹ قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر دہلی کی روہنی ضلع عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج وندنا آج (11 دسمبر 2025) سماعت کریں گی۔ پولیس کے مطابق آگ لگنے کے بعد جب لوگ بچائے جا رہے تھے اور آگ بجھائی جا رہی تھی، اسی رات لُتھرا برادران نے تھائی لینڈ کی فلائٹ بُک کی اور صبح ہوتے ہی ملک چھوڑ دیا۔ اس کے بعد سے دونوں فرار قرار دیے جا رہے تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

