آج 19 دسمبر ہے۔ یہ تاریخ بھارتی تاریخ کے اُن اہم صفحات میں درج ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آزادی کی جدوجہد صرف انگریزوں کے خلاف ہی نہیں تھی۔ بھارت کو 1947 میں انگریزوں سے نجات تو مل گئی تھی، لیکن گوا کے مقدر میں آزادی کچھ دیر سے لکھی گئی تھی۔ آج ہی کے دن، یعنی 19 دسمبر 1961 کو بھارتی فوج نے ’آپریشن وجے‘ کے ذریعے گوا، دمن اور دیو کو پرتگالیوں کے قبضے سے آزاد کرا کے دوبارہ ترنگے کے سائے تلے لے آیا تھا۔ اس تاریخی موقع پر پورے ملک میں جشن کا ماحول ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی نے اُن عظیم جانبازوں کو یاد کیا ہے جن کی جدوجہد اور قربانیوں کی بدولت آج گوا بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے۔
Goa Liberation Day reminds us of a defining chapter in our national journey. We recall the indomitable spirit of those who refused to accept injustice and fought for freedom with courage and conviction. Their sacrifices continue to inspire us as we work towards the all-round…
— Narendra Modi (@narendramodi) December 19, 2025
ناانصافی کے آگے نہ جھکنے کا حوصلہ: وزیر اعظم مودی
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘کے ذریعے گوا کے عوام کو مبارکباد دی اور اُن مجاہدین آزادی کو پُراثر خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے پرتگالی حکمرانی کے ظلم و ستم کو سہنے کے باوجود شکست تسلیم نہیں کی۔
وزیر اعظم نے لکھا: ’’گوا مکتی دیوس ہمیں ہمارے قومی سفر کے ایک نہایت اہم باب کی یاد دلاتا ہے۔ ہم اُن لوگوں کے بے مثال حوصلے کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ناانصافی کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ اُن کے مضبوط ارادے اور جرأت ہی نے ہمیں یہ آزادی دلائی۔ اُن کی قربانیاں آج بھی ہمارے لیے تحریک کا سرچشمہ ہیں۔ ہم گوا کی ہمہ جہت ترقی اور خوشحالی کے لیے پوری لگن کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔‘‘
یہ دن کیوں خاص ہے؟
اکثر لوگ بھول جاتے ہیں کہ گوا پر پرتگالیوں نے تقریباً 451 برس تک حکومت کی تھی، جو انگریزوں کے اقتدار سے بھی طویل مدت تھی۔ جب سفارتی راستے ناکام ہو گئے اور پرتگالی آمر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوئے، تو بھارتی حکومت نے فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ محض 36 گھنٹوں پر مشتمل اس فوجی آپریشن نے پرتگالی سامراج کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

