Bharat Express DD Free Dish

Goa liberation day: بھارت کی آزادی کے 14 سال بعد 36 گھنٹوں میں کیسے آزاد ہوا گوا؟ 19 دسمبر کو  ہی ختم ہوئی تھی 451 سالہ غلامی

بھارت کو 1947 میں آزادی تو مل گئی تھی، لیکن گوا اس وقت بھی پرتگالیوں کے قبضے میں تھا۔ آئیے جانتے ہیں اُن جری ہیروز اور بھارتی فوج کے اُس مشن کی داستان، جس نے سفارت کاری ناکام ہونے کے بعد فوجی طاقت کے ذریعے گوا کو بھارت کا اٹوٹ انگ بنایا۔

ہم اکثر 15 اگست 1947 کو آزادی کا جشن مناتے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اُس دن بھی بھارت کا ایک حصہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا؟ جی ہاں، جب پورا ملک انگریزوں کی حکمرانی کے خاتمے کی خوشی میں ترنگا لہرا رہا تھا، اسی وقت گوا کے عوام پرتگالی ظلم و جبر سہہ رہے تھے۔بھارت کو انگریزوں سے آزادی ملنے کے باوجود گوا کو آزاد ہونے میں پورے 14 سال اور لگ گئے۔ آج 19 دسمبر ہے، وہی تاریخی دن جب 1961 میں بھارتی فوج نے محض 36 گھنٹوں کے اندر 451 سالہ پرتگالی سامراج کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔آئیے جانتے ہیں ’آپریشن وجے‘ اور اُن جانباز ہیروز کی داستان، جنہوں نے گوا کی سرزمین کو دوبارہ بھارت کا حصہ بنایا۔

تجارت کے بہانے غلامی

گوا پر پرتگالی اقتدار کی شروعات 1510 میں ہوئی، جب پرتگالی جرنیل الفانسو ڈی البوکرک نے اس خوبصورت خطے پر قبضہ کیا۔ رفتہ رفتہ گوا ایشیا میں تجارت کا ایک بڑا مرکز بن گیا، لیکن اقتدار ملتے ہی پرتگالیوں نے مقامی آبادی پر ظلم و ستم کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس کے باوجود گوا کے عوام نے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے۔ پرتگالیوں کے خلاف بغاوت کی چنگاری 16ویں صدی سے ہی سلگ رہی تھی۔ 1583 کی کونکولِم بغاوت ہو یا 1787 کی پنٹوس سازش، ہر دور میں گوا کے لوگوں نے اپنی شناخت اور آزادی کے لیے جان کی بازی لگائی۔

رانے خاندان کی جرأت اور لوہیا کا عزم

پرتگالیوں کے خلاف سب سے طویل جدوجہد ستاری کے رانے خاندان نے کی۔ 1755 سے 1895 کے درمیان انہوں نے ایک یا دو نہیں بلکہ 14 بار بغاوت کی۔ دیپاجی رانے اور دادا رانے نے گوریلا جنگ کے ذریعے پرتگالیوں کی نیندیں اڑا دیں۔ 20ویں صدی میں یہ تحریک مزید منظم ہو گئی، لیکن 1946 میں جب ڈاکٹر رام منوہر لوہیا گوا پہنچے تو آزادی کی جدوجہد کو نئی روح ملی۔ انہوں نے مارگاؤ میں ایک عظیم عوامی جلسہ کیا، جسے گوا مکتی تحریک کا اہم موڑ مانا جاتا ہے۔ لوہیا کی گرفتاری کے بعد پورے گوا میں ستیہ گرہ کی لہر دوڑ گئی۔

جب سفارت کاری ناکام ہوئی تو فوج نے محاذ سنبھالا

1947 میں بھارت آزاد ہوا تو اُس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے گوا کو بات چیت کے ذریعے بھارت میں شامل کرنے کی کوشش کی، لیکن پرتگال کے آمر سالازار اپنی ضد پر قائم رہے۔ 1955 میں جب نہتے ستیہ گرہیوں پر پرتگالی پولیس نے گولیاں چلائیں اور کئی بھارتی شہید ہوئے، تو ملک بھر میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ آخرکار دسمبر 1961 میں نہرو حکومت نے فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا، جسے ’آپریشن وجے‘ کا نام دیا گیا۔ 18 دسمبر کو بری فوج، فضائیہ اور بحریہ نے مشترکہ طور پر حملہ کیا۔ پرتگالی فوج بھارتی طاقت کا اندازہ نہ لگا سکی اور محض 36 گھنٹوں کے اندر، 19 دسمبر کو پرتگالی گورنر واسالو ای سلوا نے ہتھیار ڈال دیے۔ یوں 451 سالہ غیر ملکی اقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔

کیسا ہے آج کا گوا

آزادی کے بعد گوا، دمن اور دیو کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنایا گیا۔ 1987 میں گوا کو مکمل ریاست کا درجہ ملا۔ آج گوا نہ صرف بھارت کا اٹوٹ حصہ  ہے بلکہ سیاحت، ثقافت اور طرزِ زندگی کے لحاظ سے دنیا بھر میں اپنی الگ شناخت رکھتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read