جشنِ ادب ساہتیہ اتسوکے تحت منعقدہ ’کلچرل کارواں–وراثت، لکھنؤ 2026‘ کے دوسرے روزادب، شاعری اورکلاسیکی موسیقی کی مختلف پیشکشوں نے شائقین کوایک شاندارثقافتی تجربہ فراہم کیا۔ پروگرام کا آغازبیت بازی سے ہوا، جس میں مجموعی طورپر8 ٹیموں نے حصہ لیا۔ سخت مقابلے کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی کی ٹیم ’غالب‘ نے کامیابی حاصل کی۔ فاتح ٹیم میں کہکشاں خاتون، درخشاں خاتون اورمحمد یوسف عارف شامل تھے، جبکہ شیعہ پی جی کالج کی ٹیم ’مومن‘ نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اس ٹیم میں محمد نعمان، محمد الماس بیگ اورعبدالرحمٰن شامل تھے۔ فاتح اوررنراپ ٹیموں کے تمام شرکا کو یادگاری نشان اوراسناد پیش کرکے اعزازسے نوازا گیا۔ اس کے بعد ’اے ڈسکشن آن ناول‘ کے تحت ’راشٹرسروپری‘ کے موضوع اور’جے ہند کی سینا‘ کے تناظرمیں خصوصی گفتگوہوئی۔ اس دوران ادب، قومی شعوراورموجودہ دورکے مختلف پہلوؤں پرخیالات کا تبادلہ کیا گیا۔
بانسری اورکلاسیکی موسیقی نے باندھا سماں
ثقافتی پروگراموں کے سلسلے میں پدم شری پنڈت رونومجمدارنے ’بانسری چلی آؤ‘ پیش کیا، جس نے سامعین کومسحورکردیا۔ اس کے بعد پدم بھوشن پنڈت ساجن مشرا اورسوارانش مشرا نے کلاسیکی گائیکی پیش کی۔ طبلے پرپنڈت دھرم ناتھ مشرا اورابھیشیک مشرا نے مؤثرسنگت کی۔ پدم شری سریندرشرما کی مزاحیہ وطنزیہ پیشکش ’ہنسنا منع ہے‘ نے بھی ناظرین کوخوب محظوظ کیا اورانہیں سامعین کی بھرپورپذیرائی حاصل ہوئی۔
پنڈت وشو موہن بھٹ کی ’موہن وینا‘ رہی خاص کشش
دوسرے روزکی سب سے بڑی کشش گریمی ایوارڈ یافتہ اورپدم بھوشن پنڈت وشوموہن بھٹ کی ’موہن وینا‘ کی پیشکش رہی۔ اپنی منفرد طرزِوِدیا اورمدھرسروں کے ذریعہ انہوں نے سامعین کو دیرتک مسحورکئے رکھا۔ ان کی شاندارپیشکش نے ہندوستانی کلاسیکی موسیقی اورسازوں کی روایت کی مالامال وراثت کومؤثراندازمیں اجاگرکیا، جسے سامعین نے بھرپورسراہا۔
اختتامی تقریب میں اہم شخصیات کی شرکت
دوسرے روزکے پروگراموں کے اختتام پرتقریب کا انعقاد بھی کیا گیا۔ تقریب میں جشنِ ادب کے بانی کنوررنجیت چوہان، الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤبنچ کے معززجسٹس راجیش چوہان اورپدم بھوشن وگریمی ایوارڈ یافتہ پنڈت وشوموہن بھٹ کی باوقارموجودگی رہی۔ جسٹس راجیش چوہان نے جشنِ ادب کی کوششوں اورکنوررنجیت چوہان کی قیادت میں ادب، فن اورثقافت کے میدان میں کئے جا رہے کاموں کی خصوصی ستائش کی۔ انہوں نے جشنِ ادب کے ثقافتی سفرکواہم قراردیتے ہوئے ادب اورہندوستانی ثقافتی ورثے کونئی نسل تک پہنچانے کی کوششوں کوسراہا۔
کنوررنجیت چوہان نے جشنِ ادب کے 15 سالہ ثقافتی سفرپرڈالی روشنی
اس موقع پرکنوررنجیت چوہان نے جشنِ ادب کے 15 سالہ ثقافتی سفراوراس کے مقاصد پرروشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ لکھنؤمیں جشنِ ادب ساہتیہ اتسو کا یہ پانچواں سال ہے، جبکہ ملک بھر میں جشنِ ادب کا سفر15 برس مکمل کرچکا ہے۔ ان 15 برسوں کے دوران جشنِ ادب 15 ریاستوں تک پہنچ چکا ہے اورادب، فن اورہندوستانی ثقافتی ورثے کے تحفظ، فروغ اورتشہیرکے لئے مسلسل کام کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’کلچرل کارواں–وراثت، لکھنؤ 2026‘ بھی اسی ثقافتی سفرکا حصہ ہے۔ اس کا مقصد ادب، موسیقی، فن اورہندوستانی ثقافتی روایات کوایک مشترکہ پلیٹ فارم پرلانا اورنئی نسل کوملک کے مالا مال ثقافتی ورثے سے جوڑنا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


