Bharat Express DD Free Dish

Kunwar Ranjeet Chauhan

نئی دہلی: جشنِ ادب ادبی میلے کے 15 شاندار سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ 4 روزہ ادبی وثقافتی میلے کا آج چوتھا اورآخری دن موسیقی، ادب اورہندوستانی ثقافتی ورثے کے مختلف رنگوں سے سجا رہا۔ انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر، لودھی روڈ واقع اسٹین آڈیٹوریم میں منعقد خصوصی پروگرام میں ملک کے ممتازفن کاروں …

دوسرے دن کا آغاز داستان گوئی ’کہانیاں‘ سے ہوا۔ روایتی قصہ گوئی کی اس پیشکش نے ناظرین کو ہندوستانی ادب اور داستان گوئی کی مالا مال روایت سے متعارف کرایا۔ اس کے بعد ’ستارکے سُر‘ اور’سُرسندھیہ‘ جیسی موسیقی کی پیشکش نے پورے ماحول کو نغمگی سے بھردیا۔ میلے کے دوران اوڈیسی، بھرت ناٹیم اور کتھک کے کلاسیکی رقص کی پیشکش نے ہندوستانی رقص کی روایات کے تنوع اور حسن کو اسٹیج پر زندہ کردیا۔

میلے کے پہلے دن ادب، شاعری، مزاح، کلاسیکی موسیقی اورلوک ثقافت کا خوبصورت سنگم دیکھنے کو ملا۔ افتتاحی تقریب کے بعد ’یوا بہار‘ نوجوان شعری نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک کے نوجوان شاعروں اور ادیبوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے ادب کی نئی نسل کی آوازکواسٹیج فراہم کیا۔

تقریب میں جشنِ ادب کے بانی کنوررنجیت چوہان، الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤبنچ کے معززجسٹس راجیش چوہان اورپدم بھوشن وگریمی ایوارڈ یافتہ پنڈت وشوموہن بھٹ کی موجودگی رہی۔ جسٹس راجیش چوہان نے جشنِ ادب کی کوششوں اور کنوررنجیت چوہان کی قیادت میں ادب، فن اورثقافت کے میدان میں کئے جا رہے کاموں کی خصوصی ستائش کی۔

پروگرام کا مقصد ادب، فن، موسیقی اور ہندوستانی ثقافتی روایات کے تنوع کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا اور نئی نسل کو اس عظیم ورثے سے جوڑنا ہے۔ پروگرام کا افتتاح الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کے جسٹس راجیش سنگھ چوہان نے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جشنِ ادب ادبی میلے کا ’کلچرل کارواں‘ گزشتہ 15 برسوں سے فن اور ثقافت کو نوجوان نسل تک پہنچانے کا کام پوری لگن اور سنجیدگی کے ساتھ کر رہا ہے۔