نئی دہلی: بھارت میں ٹیکنالوجی کے غیر روایتی شعبوں میں خواتین کی نمائندگی میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے، جس سے صنفی برابری کی سمت ایک مثبت تبدیلی کی جھلک ملتی ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، 2020 میں غیر ٹیکنالوجی شعبوں میں ٹیک رولز میں خواتین کی نمائندگی صرف 1.90 فیصد تھی، جو کہ 2023 میں 11.8 فیصد اور 2024 میں 14 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
ٹیم لیز ڈیجیٹل (TeamLease Digital) کی رپورٹ کے مطابق، جو کہ بھارت میں ایک خصوصی اسٹافنگ فرم ہے، یہ اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ روایتی طور پر مردوں کے زیر اثر شعبوں میں اب خواتین کی شمولیت میں بہتری آ رہی ہے۔
ٹیم لیز ڈیجیٹل کی سی ای او نیتی شرما نے کہا: “2020 میں 1.90 فیصد سے 2024 میں 14 فیصد تک کا اضافہ ایک حوصلہ افزا تبدیلی ہے، لیکن ٹیکنیکل اسکلز اور قیادت میں خواتین کی کم نمائندگی اب بھی چیلنج ہے، جس کے لیے ہدفی اقدامات کی ضرورت ہے۔”
شعبہ وار صنفی عدم توازن
رپورٹ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ کچھ شعبوں میں صنفی برابری کا رجحان مضبوط ہے:
BFSI (بینکنگ، فنانشل سروسز، انشورنس): 46.88% خواتین
لائف سائنسز اور ہیلتھ کیئر: 29.58% خواتین
لیکن دیگر شعبے بہت پیچھے ہیں:
مینوفیکچرنگ اور انجینئرنگ: 4.82% خواتین
انرجی: 6.25% خواتین
یہ فرق سخت بھرتی کے طریقہ کار، ثقافتی تعصبات، اور خواتین کے لیے بنیادی ٹیکنیکل شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کے محدود مواقع کی وجہ سے ہے۔
اعلیٰ عہدوں پر خواتین کی نمائندگی اب بھی کم
سینئر سطح: صرف 3.35% خواتین
مڈ لیول: 4.07%
انٹری لیول: 3.03%
تاہم، 2023 سے 2024 کے درمیان سینئر اور مڈ لیول پوزیشنز میں خواتین کی موجودگی میں ہلکی بہتری دیکھی گئی:
مڈ لیول: 4.98% → 5.14%
سینئر لیول: 3.95% → 4.86%
مستقبل کی راہ
نیتی شرما نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ادارے خواتین کو مساوی وسائل فراہم کریں، شعبہ جاتی رکاوٹوں کو دور کریں اور خواتین کو قائدانہ کرداروں میں لانے کے لیے اقدامات کریں۔
“کمپنیاں اگر خواتین کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں تو نہ صرف وہ متنوع ٹیلنٹ حاصل کریں گی بلکہ ملک کی معیشت میں بھی پائیدار ترقی کو ممکن بنائیں گی۔”
یہ رپورٹ 13,000 افراد پر مشتمل ڈیٹا سیٹ پر مبنی ایک مقداری تحقیق کے ذریعے تیار کی گئی ہے، جو بھارت میں ورک فورس کی بدلتی ہوئی صنفی ساخت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


