وزیرمملکت (آزادانہ چارج)، ہنرمندی کی ترقی اور انٹرپرینیورشپ اور وزیر مملکت برائے تعلیم جینت چودھری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بھارت میں تعلیم کا دائرہ صرف پھیلاؤ تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس میں معیار، تدریسی طریقوں اور سیکھنے کے نتائج کو بھی سنجیدگی سے شامل کیا گیا ہے۔ ہم نے اس سمت میں قدم اٹھایا ہے کہ ہر بچہ نہ صرف اسکول جائے، بلکہ وہ حقیقی معنوں میں سیکھے بھی۔ مگر یہ جاننے کے لیے کہ بچے کیا سیکھ رہے ہیں، ہمیں ٹھوس اور سائنسی بنیادوں پر مبنی سوالات اٹھانے ہوں گے۔ ایک ماہر تعلیم نے کہا ہے کہ ’’طلبہ کمزور تدریس کے باوجود سیکھ سکتے ہیں، لیکن ناقص جانچ کے ساتھ وہ آگے نہیں بڑھ سکتے۔‘‘ تعلیم کے معیار کا اندازہ بڑے پیمانے پر جائزوں سے لگایا جا سکتا ہے جو مختلف علاقوں، مضامین، جماعتوں اور اسکولوں میں کارکردگی کے رجحانات ظاہر کرتے ہیں۔ اس سے اساتذہ اور پالیسی ساز تعلیمی نظام کی خامیوں اور خوبیوں کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔
PRS 2024: ایک سنگ میل
پچھلی دو دہائیوں میں بھارت نے اس میدان میں خاصی ترقی کی ہے۔ قومی حصولیابی جائزہ (NAS) سے لے کر اب پارکھ راشٹریہ سروے (PRS) 2024 تک، یہ دائرہ بڑھتے ہوئے اب 74,229 اسکولوں اور 21 لاکھ سے زائد طلبہ پر محیط ہو چکا ہے۔ اس سروے میں جماعت سوم، ششم اور نہم کے طلبہ کو شامل کیا گیا تاکہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے مطابق بنیادی، تیاری اور وسطی مراحل کی جانچ کی جا سکے۔ اعداد و شمار کے مطابق، بنیادی سطح پر نہ صرف تعلیمی نقصان کی بھرپائی ہو چکی ہے، بلکہ کئی معاملات میں پرانی سطحوں کو پیچھے چھوڑا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، جماعت سوم میں زبان میں مہارت رکھنے والے طلبہ کا تناسب 2021 میں 39 فیصد سے بڑھ کر اب 57 فیصد ہو چکا ہے، جب کہ ریاضی میں یہ تناسب 42 فیصد سے بڑھ کر 65 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ ترقی نپُن بھارت مشن کے تحت کی گئی کوششوں کی کامیابی کا مظہر ہے۔ مزید برآں، کچھ دیہی سرکاری اسکولوں نے شہری اور نجی اسکولوں سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔
جماعت ششم و نہم میں نئے چیلنجز
جماعت ششم اور نہم میں تصویر قدرے پیچیدہ ہے۔ مرکزی اسکولوں نے مجموعی طور پر بہتر کارکردگی دکھائی، تاہم ریاضی اور سائنس میں صنفی اور علاقائی بنیادوں پر کچھ فرق باقی ہے، جن پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
غلط موازنوں سے گریز ضروری
بعض تجزیے PRS 2024 کا پچھلے سروے سے موازنہ کرتے ہیں، جو درست نہیں کیونکہ نئے سروے میں جماعتوں کا انتخاب، نصاب اور جانچ کے معیار سب مختلف ہیں۔ سابقہ جائزے جماعت پنجم و ہشتم پر مرکوز تھے، جب کہ PRS 2024 جماعت ششم و نہم کو مدنظر رکھتا ہے۔ نیز، سابقہ سروے نصابی مواد کی بنیاد پر ہوتے تھے، جب کہ PRS صلاحیتوں کی جانچ پر مرکوز ہے۔ صرف جماعت سوم کے نتائج ماضی سے موازنہ کے قابل ہیں، اور یہاں بہتری واضح ہے۔
ڈیٹا ایک رپورٹ کارڈ نہیں، روڈ میپ ہے
یہ اعداد و شمار محض رپورٹ کارڈ نہیں بلکہ اصلاحات کے لیے ایک روڈ میپ فراہم کرتے ہیں۔ ہر ریاست، ضلع اور اسکول کو چاہیے کہ وہ اپنی سطح پر ان نتائج کو سمجھ کر مخصوص ضرورتوں کے مطابق اقدامات کرے۔ مرکز رہنمائی، فریم ورک اور وسائل فراہم کرتا رہے گا، لیکن اصل اثر ضلعی و اسکولی سطح پر کیے گئے اقدامات سے پیدا ہوگا۔ ہمارا مقصد محض قومی معیار پورا کرنا نہیں بلکہ عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لائق بننا ہے۔
روزگار سے ربط، ہنر کی اہمیت
تعلیم کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے ہنر مندی بھی اتنی ہی ضروری ہے تاکہ وہ روزگار، کاروبار اور معیشت میں مؤثر شراکت دار بن سکیں۔ اسی لیے حکومت جلد ہی بڑے پیمانے پر ہنر جانچ کا عمل شروع کرے گی تاکہ ہنر مندی کی علاقائی سطح پر موجودگی اور کمی کو سمجھا جا سکے اور اس بنیاد پر پیشہ ورانہ تعلیم کو بہتر بنایا جا سکے۔ حالیہ دنوں میں آئی ٹی آئیز کی درجہ بندی کا ڈیجیٹل نظام اور PLFS سروے میں NEET (یعنی نہ تعلیم میں، نہ روزگار میں) نوجوانوں کی شمولیت اس سمت میں اہم قدم ہے۔
مستقبل کے لیے تیار نظام کی تعمیر
ہمارا مقصد یہ ہے کہ تعلیم کو روزگار سے جوڑا جائے اور ہر نوجوان کو تعلیم یافتہ، قابلِ روزگار، باصلاحیت اور ملک کی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لائق بنایا جائے۔ PRS 2024 نہ صرف ہماری موجودہ پیش رفت کا آئینہ ہے بلکہ آنے والے وقت کی سمت بھی متعین کرتا ہے۔ جیسے جیسے ہم تعلیمی بنیادوں کو مضبوط کرتے جا رہے ہیں اور ہنر مندی کے افق کو وسعت دے رہے ہیں، ہم ایک شامل، ثبوت پر مبنی اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ نظام کی تشکیل کی طرف رواں دواں ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




