Bharat Express DD Free Dish

ED raids Al-Falah University’s residences and offices: لال قلعہ دھماکہ کیس میں فنڈنگ کا شبہ! ای ڈی کے چھاپے—الفلاح یونیورسٹی کے گھروں اور دفاتر کی تلاشی، بڑے ماڈیول سے روابط کا اندیشہ

لال قلعہ دھماکہ کیس معاملے میں الفلاح یونیورسٹی ای ڈی کے نشانے پر آگئی ہے۔ اوکھلا–جامعہ نگر سمیت 25 مقامات پر بیک وقت کارروائی، یونیورسٹی کے ٹرسٹیوں اور وابستہ افراد کے دفاتر و رہائش گاہوں کی تلاشی لی گئی۔

 

نئی دہلی کے لال قلعہ دھماکہ معاملے میں فرید آباد کی الفلاح یونیورسٹی مسلسل بحث میں ہے۔ اس یونیورسٹی کے چار ڈاکٹر اس کیس میں شامل ہونے کے الزام میں این آئی اے کی حراست میں ہیں۔ اب اس ادارے کی مالی سرگرمیوں پر ای ڈی (Enforcement Directorate) نے بھی سخت نظر رکھنی شروع کر دی ہے۔ منگل کے روز ای ڈی نے اوکھلا، جامعہ نگر اور دیگر مقامات پر ایک ساتھ 25 ٹھکانوں پر چھاپے مارے۔ ٹیمیں یونیورسٹی، اس کے ٹرسٹیوں اور ان سے وابستہ افراد کے گھروں اور دفاتر کی باریک بینی سے تلاشی لے رہی ہیں۔ الزام ہے کہ ادارے کی فنڈنگ اور مالی لین دین میں سنگین بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔ ابتدائی مرحلے کی تحقیقات میں ہی ایجنسی اسے بڑے وہائٹ کالر ٹیرر ماڈیول سے جوڑ کر دیکھ رہی ہے۔

یونیورسٹی پہلے بھی تنازعات کی زد میں

الفلاح یونیورسٹی پہلے بھی دھوکہ دہی اور جعلسازی کے معاملات میں خبروں میں رہ چکی ہے۔ دہلی پولیس نے اس کے خلاف دو علیحدہ مقدمات میں سمن جاری کیا تھا۔ یونیورسٹی کے چیئرمین جاوید احمد صدیقی کو اس وقت سمن بھیجا گیا جب ادارے کے کام کاج، سرگرمیوں اور مالیاتی ریکارڈ پر ایجنسیوں کو شبہ ہوا۔ ذرائع کے مطابق لال قلعہ دھماکہ کیس میں کئی ملزمان کے اس یونیورسٹی سے روابط سامنے آئے ہیں، جس کے بعد ریکارڈ، ٹرانزیکشن اور مالی نیٹ ورک کی ہر پرت کو کھنگالا جا رہا ہے۔

بے قاعدہ تعمیرات کا انکشاف

ایجنسیوں کو شک ہے کہ یونیورسٹی کے توسیعی منصوبوں میں سرکاری قواعد کو نظرانداز کیا گیا۔ دھماکے کی تحقیقات کے دوران یہ بے قاعدگیاں مزید واضح ہو گئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انتظامیہ نے حال ہی میں یونیورسٹی کا معائنہ کیا، جہاں متعدد تعمیرات بغیر اجازت یا قواعد کی خلاف ورزی میں کی گئی پائی گئیں۔ اب ایجنسیاں ادارے کی فنڈنگ اور لین دین کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہیں۔

دو مقدمات پہلے سے درج—غیر قانونی تعمیرات پر ممکنہ کارروائی

دہلی پولیس پہلے ہی الفلاح یونیورسٹی کے خلاف جعلسازی اور دھوکہ دہی کے دو مقدمات درج کر چکی ہے۔ انتظامیہ اب ممکنہ طور پر ان غیر قانونی تعمیرات پر بلڈوزر کارروائی بھی کر سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read