Bharat Express DD Free Dish

Dr. Rajeshwar Singh Leads ‘Shakti Ka Shankhnaad’ Rally: خواتین نے ڈاکٹر راجیشور سنگھ کی قیادت میں نکالی ’’شکتی کا شنکھ ناد‘‘ ریلی، خواتین مخالف نظریوں کے خلاف اٹھائی آواز

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے کہا کہ یہ پد یاترا صرف ایک ریلی نہیں ہے، بلکہ عوامی انقلاب کا ایک ’’شنکھ ناد‘‘ ہے، جو طالبانی سوچ کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقبول ایم ایل اے ڈاکٹر راجیشور سنگھ کی قیادت میں سروجنی نگر میں ’’شکتی کا شنکھ ناد‘‘ کے نام سے ایک عظیم الشان پد یاترا کا انعقاد کیا گیا۔ اس پد یاترا کا مقصد خواتین کے احترام کو فروغ دینا اور خواتین مخالف نظریات کے خلاف عوامی بیداری لانا تھا۔ اس پد یاترا میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔

طالبانی سوچ کے خلاف ’’ماتری شکتی‘‘ کی گرج

پد یاترا کے دوران مظاہرین نے ’’ماتری شکتی کا سمّان، استری ورودھی وچار دھارا دیش کا اپمان‘‘ کے نعرے لگائے۔ ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے کہا کہ یہ پد یاترا صرف ایک ریلی نہیں ہے، بلکہ عوامی انقلاب کا ایک ’’شنکھ ناد‘‘ ہے، جو طالبانی سوچ کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ سروجنی نگر کی سرزمین سے اٹھنے والی یہ آواز پورے ملک میں گونجے گی۔ اس دوران مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں ترنگا اور سرخ جھنڈے اٹھا رکھے تھے جو حب الوطنی اور خواتین کو بااختیار بنانے کی علامت تھے۔

سروجنی نگر کی بیٹیاں اب چپ نہیں بیٹھیں گی: راجیشور سنگھ

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے کہا کہ سروجنی نگر کی بیٹیاں اب خاموش نہیں بیٹھیں گی اور طالبانی سوچ کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ پد یاترا محض ایک آغاز ہے اور آنے والے دنوں میں اس طرح کے مزید پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی جائیں گی۔ اس موقع پر مقامی لوگوں اور بی جے پی کارکنوں نے ان کے اس اقدام کو سراہا اور اسے ایک مثبت قدم قرار دیا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read