چیتنیانند سرسوتی کے خلاف کئی چونکانے والے انکشافات۔
نئی دہلی: دہلی کے شاردہ انسٹی ٹیوٹ میں مبینہ جنسی استحصال کے معاملے میں سوامی چیتنیانند سرسوتی کے خلاف کئی چونکانے والے انکشافات ہوئے ہیں۔ ایف آئی آر میں الزام ہے کہ چیتنیانند نے طالبات کے ساتھ غیر شائستہ رویہ اپنایا اور ادارے میں اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ ایف آئی آر کے مطابق، چیتنیانند طالبات کو رات گئے اپنے نجی کواٹر میں بلاتا تھا۔ خاص طور پر معاشی طور پر کمزور طبقے کی طالبات کو دیر رات اس کے کواٹر میں جانے کے لیے مجبور کیا جاتا تھا۔
خفیہ کیمروں سے پرائیویسی کی خلاف ورزی
صرف یہی نہیں، لڑکیوں کے ہاسٹل میں سیکورٹی کے نام پر خفیہ کیمرے نصب کیے گئے تھے، جس سے ان کی پرائیویسی کی خلاف ورزی ہوئی۔ الزام یہ بھی ہے کہ ایک طالبہ کو اس کی مرضی کے خلاف اپنا نام بدلنے پر مجبور کیا گیا۔ اس کے علاوہ، طالبات پر بیرون ملک سفر اور سوامی کے نجی کمرے میں رات کے وقت موجود ہونے کا دباؤ ڈالا جاتا تھا۔
ساتھیوں پر بھی لگے سنگین الزامات
ساتھی ڈین شویتا اور کچھ دیگر اسٹاف ممبران پر بھی سنگین الزامات ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق، ان لوگوں نے سوامی کے جنسی مطالبات ماننے کے لیے طالبات پر دباؤ ڈالا اور ان کی شکایات کو نظرانداز کیا۔ مخالفت کرنے والی طالبات کو معطلی اور اخراج کی دھمکیاں دی گئیں۔ اتنا ہی نہیں طالبات کے والدین کو بھی مداخلت سے روکا گیا۔
نازیبا پیغامات اور دھمکیوں کا انکشاف
ایف آئی آر میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ سوامی اور اس کے ساتھیوں کی طرف سے طالبات کو واٹس ایپ اور ایس ایم ایس کے ذریعے فحش اور قابلِ اعتراض پیغامات بھیجے جاتے تھے۔ ان پیغامات یا جنسی مطالبات کی مخالفت کرنے پر طالبات کو ڈگری روکنے اور دستاویزات نہ دینے کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔
خوف کے ماحول میں جی رہی ہیں طالبات
ایف آئی آر میں یہ بھی درج ہے کہ 7 طالبات خوف کے ماحول میں ہیں۔ وہ سب الگ الگ طرح کے جنسی استحصال کا شکار ہو چکی ہیں۔ حالانکہ، اب وہ ذاتی طور پر سامنے آنے سے ڈر رہی ہیں اور اپنی جان کو خطرے میں محسوس کر رہی ہیں۔ انہوں نے پولیس افسران سے معاملے میں فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


