Bharat Express DD Free Dish

Minority status Jamia Millia Islamia: جامعہ ملیہ اسلامیہ کی اقلیتی حیثیت پر دہلی ہائی کورٹ نے وضاحت طلب کی، حکومت اور پی آئی ایل دائر کرنے والوں سے بھی سوالات

جامعہ اور اقلیتی برادری اس موقف پر قائم ہے کہ چونکہ جامعہ کو اقلیتوں نے قائم کیا تھا، اس لیے اس کی اقلیتی حیثیت قانونی، تاریخی اور آئینی طور پر بالکل جائز ہے۔

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے 2011 میں دی گئی اقلیتی تعلیمی ادارے کی حیثیت کے متعلق اپنا موجودہ موقف واضح کرنے کو کہا ہے۔ عدالت نے یہ سوال اس وقت اٹھایا جب متعدد درخواستوں میں قومی اقلیتی تعلیمی اداروں کے کمیشن (NCMEI) کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا، جس کے تحت جامعہ کو اقلیتی ادارہ قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے جامعہ سے سوال کیا ہے کہ آج آپ کا کیا موقف ہے؟ آپ نے کمیشن کے سامنے حلف نامہ دائر کر کے کہا تھا کہ جامعہ اقلیتی ادارہ نہیں ہے، پھر آپ نے اس فیصلے کو چیلنج بھی نہیں کیا۔ اب آپ کس بنیاد پر اپنا موقف تبدیل کر رہے ہیں؟ یہ سوال جسٹس پرتھیبا ایم سنگھ اور جسٹس سنجیو نرولا کی خصوصی بنچ نے اٹھایا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کا موقف

جامعہ کی جانب سے وکیل پریتیش سبھروال نے بتایا کہ اس معاملے پر سابقہ کونسل کی سطح پر بحث ہوئی تھی اور تحریری جوابات جمع کرائے گئے تھے۔ عدالت نے NCMEI کے فیصلے سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت ان درخواستوں پر غور کررہی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ جامعہ کو اقلیتی ادارہ قرار دینے کے لیے ضروری عوامل نظرانداز کیے گئے اور جب 1988 میں جامعہ ایکٹ نافذ ہوا تو جامعہ اقلیتی ادارہ نہیں تھا۔ درخواست گزاروں نے معاشی طور پر کمزور طبقات (EWS) کے طلبہ کے لیے 10 فیصد ریزرویشن کی مانگ بھی کی ہے۔

 درخواست گزاروں سے عدالت کا سوال؟

بنچ نے پی آئی ایل دائر کرنے والوں سے یہ بھی پوچھا کہ وہ اس معاملے میں کس قانونی حیثیت سے مداخلت کر رہے ہیں جبکہ نہ جامعہ اور نہ ہی حکومت اس فیصلے سے ناراض نظر آتے ہیں۔ عدالت نے سوال کیا: ’’آپ کون ہیں جو اس فیصلے کو چیلنج کر رہے ہیں؟ کیا آپ اسٹیک ہولڈر ہیں؟ اب کس بنیاد پر کہہ رہے ہیں کہ آپ NCMEI کے فیصلے کو چیلنج کر رہے ہیں؟‘‘ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ یہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے، لیکن عدالت نے واضح کیا کہ وہ صرف قانونی بنیادوں پر غور کرے گی۔ عدالت نے کہا: ’’NCMEI نے تمام فریقین کو سن کر فیصلہ سنایا، اب کسی تیسرے کو کیوں چیلنج کرنے کی اجازت دی جائے؟‘‘ اس کے ساتھ عدالت نے یہ بھی بتایا کہ مرکز نے بھی پہلے ایک حلف نامے کے ذریعے NCMEI کے فیصلے سے اتفاق کیا تھا، مگر اب اس کا موقف بھی تبدیل ہو چکا ہے، جبکہ جامعہ یہ کہہ رہی ہے کہ وہ ایک سیکولر ادارہ ہے۔ جامعہ نے عدالت میں کہا کہ چونکہ اسے 2011 میں اقلیتی تعلیمی ادارہ قرار دیا جا چکا ہے، اس لیے EWS کے لیے 10 فیصد ریزرویشن کا اطلاق اس پر نہیں ہوتا۔

EWS طلبہ کے لیے ریزرویشن کی مانگ

ایک قانون کے طالب علم کی جانب سے دائر کردہ پی آئی ایل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جامعہ یا تو مرکزی یونیورسٹی رہے یا اقلیتی ادارہ، دونوں حیثیتیں ایک ساتھ نہیں رکھ سکتی۔ درخواست میں آئین کی 103ویں ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے EWS طلبہ کے لیے ریزرویشن کی مانگ کی گئی ہے۔ عدالت نے جامعہ، وزارت تعلیم، اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان کا جواب طلب کیا ہے۔

اقلیتی حیثیت کی وضاحت کی ضرورت کیوں؟

جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اقلیتی تعلیمی ادارے (Minority Educational Institution) کے طور پر اس کی خصوصی حیثیت حاصل ہے، جو آئین ہند کی دفعہ 30(1) کے تحت دی گئی ہے۔ اس حیثیت کا مطلب یہ ہے کہ جامعہ کو مسلمان اقلیت کی جانب سے قائم کیا گیا ایک ادارہ تسلیم کیا گیا ہے، جسے اپنے تعلیمی معاملات میں خاص خودمختاری حاصل ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے جامعہ سے اس کا موقف واضح کرنے کو اس لیے کہا ہے کیونکہ 2011 میں جامعہ کا اقلیتی اسٹیٹس NCMEI نے واضح کردیا جسے جامعہ نے قبول کرلیا۔ لیکن تضاد اس بات میں ہے کہ جامعہ خود کو سیکولر ادارہ بھی کہتا ہے لیکن جب اس سے EWS کے لیے 10 فیصد ریزرویشن کا مطالبہ ہوتا ہے تو جامعہ کا کہتا ہے کہ وہ اقلیتی ادارہ ہے اس پر اس طرح کے ریزرویشن کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اسی تضاد کی وجہ سے ہائی کورٹ نے جامعہ سے جواب طلب کیا ہے کہ وہ اپنے موقف کی وضاحت کرے۔

اقلیتی حیثیت کے فوائد

جامعہ کو اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں محفوظ رکھنے کی اجازت حاصل ہے۔ تعلیمی و انتظامی معاملات میں خودمختاری حاصل ہے، خصوصاً اقلیتی طلبہ کی بھرتی اور فیکلٹی تقرری میں۔ قومی تعلیمی پالیسی کے کئی پہلوؤں سے استثنیٰ حاصل ہو سکتا ہے۔

موجودہ صورتحال

سپریم کورٹ میں جامعہ کی اقلیتی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے اور یہ معاملہ اب ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ کے زیرغور ہے۔ جامعہ اور اقلیتی برادری اس موقف پر قائم ہے کہ چونکہ جامعہ کو اقلیتوں نے قائم کیا تھا، اس لیے اس کی اقلیتی حیثیت قانونی، تاریخی اور آئینی طور پر بالکل جائز ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read