Bharat Express DD Free Dish

Delhi Gymkhana Club: بے ضابطگیوں کے سائے میں دہلی کا جم خانہ کلب، 113 سال پرانا ادارہ بندش کے دہانے پر، حکومت نے 5 جون تک کلب خالی کرنے کا دیا حکم

کبھی اقتدار اور سماجی حیثیت کی علامت سمجھا جانے والا دہلی جِم خانہ کلب آج شدید تنازعات میں گھرا کھڑا ہے۔ 113 سال پرانے اس ادارے پر اب تالا لگنے کی نوبت آ چکی ہے، لیکن سب سے بڑا سوال اب بھی وہی ہے کیا ان تمام الزامات، مالی بے ضابطگیوں اور قومی سلامتی سے جڑے معاملات کی کبھی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں گی؟ یا پھر دہلی جم خانہ کلب کی تاریخ انہی تنازعات کے ساتھ ہمیشہ کے لیے بند کر دی جائے گی؟

نئی دہلی: ملک کی راجدھانی کے قلب میں واقع 113 سال پرانا دہلی جم خانہ کلب آج اپنے وجود کے سب سے بڑے بحران سے گزر رہا ہے۔ کبھی اقتدار، اثر و رسوخ اور اشرافیہ کی علامت مانا جانے والا یہ تاریخی کلب اب بندش کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ مرکزی حکومت نے کلب انتظامیہ کو 5 جون تک پورا احاطہ خالی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ مرکزی وزارتِ رہائش و شہری امور نے اس فیصلے کے پیچھے قومی سلامتی، دفاعی بنیادی ڈھانچے اور عوامی مفاد کا حوالہ دیا ہے۔ تاہم اصل سوال صرف یہ نہیں کہ کلب کیوں خالی کرایا جا رہا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ ملک کے بااثر ترین اداروں میں شمار ہونے والا یہ کلب بدعنوانی، مالی بے ضابطگیوں، قانونی تنازعات اور سکیورٹی خلاف ورزیوں کی علامت بن گیا؟

1913 میں قائم ہوا تھا دہلی جم خانہ کلب

جولائی 1913 میں برطانوی راج کے دوران قائم ہونے والے اس کلب میں ایک وقت ہندوستانیوں کا داخلہ تک ممنوع تھا۔ آزادی کے بعد اقتدار ضرور بدلا، مگر کلب کا رعب و رسوخ برقرار رہا۔ صنعت کار، سینئر افسران، سیاستدان، ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور بااثر شخصیات اس کی رکنیت کو سماجی حیثیت کی علامت سمجھتے رہے۔ دہلی کے وسط میں تقریباً 27 ایکڑ پر پھیلا یہ پرتعیش کلب طویل عرصے تک ملک کے ایلیٹ طبقے کی پہچان بنا رہا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کے اندرونی معاملات پر سوالات اٹھنے لگے۔ سال 2020 تک کلب پر مالی بدعنوانی اور انتظامی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات سامنے آنے لگے۔ دعویٰ کیا گیا کہ سوئمنگ پول کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر مالی گڑبڑ کی گئی۔ ممبرشپ قوانین کو نظرانداز کرکے بااثر افراد کے بچوں کو رکن بنایا گیا۔ یہ بھی الزام لگا کہ کلب کے ہی اراکین کو عدالتوں میں وکیل مقرر کر کے کروڑوں روپے ادا کیے گئے۔ کورونا وبا کے دوران پی ایم کیئر فنڈ کے نام پر جمع رقم کو دوسرے اکاؤنٹس میں منتقل کرنے جیسے الزامات بھی سامنے آئے۔ معاملہ بڑھنے پر مرکزی وزارتِ کارپوریٹ امور نے National Company Law Tribunal (این سی ایل ٹی) سے رجوع کیا۔

حکومت کے مقرر کردہ منتظم بھی تنازعات میں گھرے

15 فروری 2021 کو National Company Law Appellate Tribunal (این سی ایل اے ٹی) نے الزامات کو سنگین مانتے ہوئے کلب کی مینجمنٹ کمیٹی تحلیل کر دی اور انتظام ایک ایڈمنسٹریٹر کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ حکومت نے منموہن جنیجا کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا، لیکن صرف چار دن بعد انہیں ہٹا کر ریٹائرڈ بیوروکریٹ ونود یادو کو تعینات کر دیا گیا۔ اسی مرحلے سے تنازع مزید گہرا ہوگیا۔ الزامات لگے کہ وزارتِ کارپوریٹ امور کے بعض افراد نہیں چاہتے تھے کہ کلب کی اصل حقیقت سامنے آئے۔ بعد میں ونود یادو بھی تنازعات میں گھر گئے اور بالآخر مستعفی ہوگئے۔

غیر قانونی تعمیرات اور ذاتی مفادات کے الزامات

30 جولائی کو سابق بیوروکریٹ اوم پاٹھک کو نیا ایڈمنسٹریٹر بنایا گیا، مگر ان کی تقرری کے بعد تنازعات مزید بڑھ گئے۔ این سی ایل ٹی کے سابق رجسٹرار آر کے مینا نے ان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا۔ نومبر میں این سی ایل ٹی کے احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے کلب احاطے میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات شروع کر دی گئیں، جنہیں سکیورٹی ایجنسیوں نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ اوم پاٹھک پر یہ الزام بھی لگا کہ انہوں نے بدعنوانی کی تحقیقات کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دی، حتیٰ کہ خود کلب کی ممبرشپ بھی حاصل کر لی۔

سپریم کورٹ تک پہنچا معاملہ

الزامات کا دائرہ بڑھتا گیا تو اُس وقت کے مرکزی وزیرِ مملکت راؤ اندر جیت سنگھ نے کلب کا معائنہ کیا اور وقت پر آڈٹ نہ ہونے پر سوال اٹھائے۔ بعد میں الزام سامنے آیا کہ کلب کی سکیورٹی کا ٹھیکہ ایسی کمپنی کو دے دیا گیا جس نے ٹینڈر عمل میں حصہ تک نہیں لیا تھا۔ آڈٹ رپورٹ میں مبینہ ہیرا پھیری اور نجی تقریبات کے اخراجات کلب کے کھاتوں میں دکھانے جیسے معاملات بھی سامنے آئے۔ تنازع آخرکار سپریم کورٹ تک پہنچا، جہاں سے کلب میں انتخابات کرانے کی ہدایت دی گئی۔ اپریل 2022 میں این سی ایل ٹی نے 15 رکنی بورڈ آف ڈائریکٹرز تشکیل دینے کا حکم دیا۔ اس بورڈ میں سابق آئی پی ایس، آئی اے ایس اور آئی آر ایس افسران شامل کیے گئے۔ لیکن جلد ہی یہ بورڈ بھی تنازعات میں گھر گیا۔ الزامات لگے کہ بورڈ نے بدعنوانی کی غیر جانبدارانہ جانچ کے بجائے خود متنازع فیصلے لینا شروع کر دیے، جن میں ملازمین کی برطرفی، مہنگی لا فرموں کو ادائیگیاں اور وزیر اعظم کی رہائش کے قریب ڈرون اڑانے جیسے معاملات شامل تھے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ 2022 سے اب تک کلب کی ایک بھی سالانہ جنرل میٹنگ کامیابی سے منعقد نہیں ہوسکی۔ دہلی ہائی کورٹ میں بھی کلب کے خلاف سخت تبصرے سامنے آئے۔ مختلف سماعتوں کے دوران عدالت نے معاملے کی سی بی آئی جانچ سے متعلق نوٹس جاری کیے۔ ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت سے متعلق کارروائی بھی زیرِ التوا ہے۔

کیا کلب بند کر کے تنازع دفن کیا جا رہا ہے؟

اب سب سے اہم سوال یہی اٹھ رہا ہے کہ کیا دہلی جِم خانہ کلب کو بند کرنے کا فیصلہ واقعی صرف قومی سلامتی اور عوامی مفاد سے جڑا ہے، یا پھر حکومت ایک ایسے تنازع سے بچنا چاہتی ہے جس نے گزشتہ پانچ برسوں میں کئی طاقتور شخصیات کو سوالوں کے گھیرے میں لا کھڑا کیا؟ کیونکہ ان تمام برسوں کے دوران نہ کسی سرکاری منتظم، نہ کسی بورڈ اور نہ ہی کسی کمیٹی نے ایسا کوئی فیصلہ کن قدم اٹھایا، جس سے یہ محسوس ہو کہ کروڑوں روپے کی مبینہ بدعنوانیوں اور مالی بے ضابطگیوں کی واقعی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں گی۔ کبھی اقتدار اور سماجی حیثیت کی علامت سمجھا جانے والا دہلی جِم خانہ کلب آج شدید تنازعات میں گھرا کھڑا ہے۔ 113 سال پرانے اس ادارے پر اب تالا لگنے کی نوبت آ چکی ہے، لیکن سب سے بڑا سوال اب بھی وہی ہے کیا ان تمام الزامات، مالی بے ضابطگیوں اور قومی سلامتی سے جڑے معاملات کی کبھی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں گی؟ یا پھر دہلی جم خانہ کلب کی تاریخ انہی تنازعات کے ساتھ ہمیشہ کے لیے بند کر دی جائے گی؟

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read