نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے 26 مئی 2025 کو ایک سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکار کو پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا۔ ملزم، جس کا نام موتی رام جٹ ہے، ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر تھا اور اسے دہلی سے حراست میں لیا گیا۔ این آئی اے کے مطابق، موتی رام 2023 سے پاکستان کے انٹیلی جنس افسران (پی آئی اوز) کے ساتھ حساس معلومات شیئر کر رہا تھا، جو قومی سلامتی سے متعلق تھیں۔ اسے پاکستانی ایجنٹوں سے مختلف ذرائع کے ذریعے فنڈز بھی موصول ہو رہے تھے۔
این آئی اے نے بتایا کہ موتی رام جٹ نے سی آر پی ایف کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خفیہ معلومات پاکستان کو فراہم کیں۔ اس کی سرگرمیوں کا پتہ سوشل میڈیا کی نگرانی اور مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کی جانے والی چھان بین کے دوران چلا۔ سی آر پی ایف نے تصدیق کی کہ موتی رام کو 21 مئی 2025 سے سروس سے برطرف کر دیا گیا ہے اور اسے مزید تفتیش کے لیے این آئی اے کے حوالے کر دیا گیا۔ اسے دہلی کے پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے 6 جون تک این آئی اے کی تحویل میں بھیج دیا۔
یہ گرفتاری پاکستان سے منسلک جاسوسی کے ایک بڑے نیٹ ورک کے خلاف جاری کارروائی کا حصہ ہے۔ حالیہ ہفتوں میں، این آئی اے اور دیگر ایجنسیوں نے پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش سے 12 افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں ایک یوٹیوبر جیوتی ملہوترا بھی شامل ہیں۔ یہ گرفتاریاں اپریل 2025 میں پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں کی گئی ہیں، جس کے بعد بھارت نے آپریشن سندور شروع کیا تھا۔
موتی رام جٹ کے کیس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے حساس معلومات حاصل کرنے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کیے، جن میں مالیاتی لین دین اور سوشل میڈیا سرگرمیاں شامل ہیں۔ این آئی اے اس نیٹ ورک کی مزید تفتیش کر رہی ہے تاکہ دیگر ممکنہ ملزمان اور ان کے روابط کا پتہ لگایا جا سکے۔ یہ واقعہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



