Bharat Express DD Free Dish

Court imposes Rs 200 fine on Rahul: راہل گاندھی پر لگا200 روپئے کا بھاری جرمانہ! عدالت میں سماعت کے دوران حاضر نہ ہونے پرلگاجرمانہ

راہل گاندھی کے وکیل پرانشو اگروال نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس وقت لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر ہیں۔ انہوں نے عدالت سے کہاکہ راہل گاندھی کی دہلی میں ایک اہم میٹنگ تھی، اس کے علاوہ انہیں کئی پروگراموں میں شرکت کرنی تھی، جس کی وجہ سے وہ عدالت میں حاضر نہیں ہو سکے۔

راہل گاندھی

لکھنؤ کی ایک عدالت نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی پر 200 روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ ویر ساورکر پر دیے گئے بیان کی سماعت کے دوران وہ عدالت میں حاضر نہیں ہوئے جس کی وجہ سے ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے ان کے خلاف یہ کارروائی کی ہے۔ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نے یہ بھی انتباہ دیا کہ راہل گاندھی کو کسی بھی قیمت پر 14 اپریل 2025 کو عدالت میں حاضر ہونا چاہئے۔اگر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی 14 اپریل 2025 کو عدالت میں حاضر نہیں ہوتے ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ راہل گاندھی نے اکولا میں پریس کانفرنس میں ویر ساورکر پر متنازعہ بیان دیا تھا۔ انہوں نے ساورکر کو انگریزوں کا غلام اور پنشنر کہا تھا۔ راہل گاندھی کے اس بیان کے خلاف نریپیندر پانڈے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ پہنچے۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی جانب سے ایڈوکیٹ پرانشو اگروال عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی۔ اس کی سماعت لکھنؤ کی اے سی جے ایم کورٹ میں جاری ہے۔ شکایت کنندہ کے وکیل نریپیندر پانڈے نے عدالت کو بتایا کہ راہل گاندھی بار بار سمن کے باوجود پیش نہیں ہو رہے ہیں۔ عدالت ان کے خلاف سخت کارروائی کرے۔راہل گاندھی کے وکیل پرانشو اگروال نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس وقت لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر ہیں۔ انہوں نے عدالت سے کہاکہ راہل گاندھی کی دہلی میں ایک اہم میٹنگ تھی، اس کے علاوہ انہیں کئی پروگراموں میں شرکت کرنی تھی، جس کی وجہ سے وہ عدالت میں حاضر نہیں ہو سکے۔و کیل پرانشو اگروال نے کہا کہ راہل گاندھی عدالت کا احترام کرتے ہیں اور وہ جان بوجھ کر عدالت میں حاضر ہونے سے بچنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read