دربھنگہ میں راہل گاندھی کے قافلے کو روکا گیا۔
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کے بہار دورے کو لے کر جمعرات کو ہائی وولٹیج ڈرامہ دیکھنے کو ملا۔ دربھنگہ انتظامیہ نے راہل گاندھی کو امبیڈکر ہاسٹل میں پروگرام کرنے کی اجازت نہیں دی۔ حالانکہ، قافلہ روکے جانے کے بعد، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی پیدل ہی دلت طلباء سے بات چیت کرنے کے لئے نکل پڑے۔ اس دوران پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی بھی دیکھنے کو ملی۔
اس کے ساتھ ہی کانگریس نے دربھنگہ میں راہل گاندھی کے پروگرام کو روکنے پر بہار کی این ڈی اے حکومت کو نشانہ بنایا۔ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ بہار کے دربھنگہ میں امبیڈکر ہاسٹل میں ’شکشا نیائے سمواد‘ پروگرام میں راہل گاندھی کو شرکت سے روکنا تاناشاہی کی انتہا ہے۔
کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا، ’’اب کیا دلت، محروم، پسماندہ طبقے کے طلباء کے ساتھ بات چیت کرنا آئین کے خلاف ہے؟ کیا ان سے ان کی تعلیم، ان کی بھرتی کے امتحانات اور نوکریوں کے بارے میں بات کرنا کوئی گناہ ہے؟ جے ڈی یو-بی جے پی کی حکومت کے بہار میں دربھنگہ کے امبیڈکر ہاسٹل میں ’شکشا نیائے سمواد‘ پروگرام میں راہل گاندھی کو شرکت سے روکنا تاناشاہی کی انتہا ہے۔ جمہوریت کی جنم بھومی بہار اس ناانصافی کو یاد رکھے گا اور وقت آنے پر جے ڈی یو-بی جے پی کو مناسب جواب دے گا۔
وہیں، کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی واڈرا نے ایکس پوسٹ میں لکھا، ’’دربھنگہ کے امبیڈکر ہاسٹل میں ’شکشا نیائے سمواد‘ پروگرام کے تحت طلبہ سے بات چیت کرنے جا رہے قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو روکنا ایک انتہائی شرمناک، قابل مذمت اور بزدلانہ فعل ہے۔ جے ڈی یو-بی جے پی مخلوط حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ کیا بہار میں قائد حزب اختلاف کا جانا جرم ہے یا دلتوں، پسماندہ، محروموں اور غریبوں کی آواز اٹھانا جرم ہے؟ انصاف اور انقلاب کی سرزمین بہار کے لوگ یہ تاناشاہی برداشت نہیں کریں گے۔‘‘
اس سے پہلے راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’بہار میں این ڈی اے کی ’ڈبل انجن دھوکہ باز حکومت‘ مجھے امبیڈکر ہاسٹل میں دلت اور پسماندہ طلبہ سے بات کرنے سے روک رہی ہے۔ بات چیت کب سے جرم بن گئی؟ نتیش جی، آپ کس بات سے ڈر رہے ہیں؟ کیا آپ بہار میں تعلیم اور سماجی انصاف کی حالت چھپانا چاہتے ہیں؟‘‘
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


