نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کے روز آبادی میں تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کو ہدایت دی کہ وہ اپنی سفارشات جلد از جلد پیش کرے۔ کمیٹی نے وزیر داخلہ کو بتایا کہ وہ زمینی حقائق کا براہِ راست جائزہ لینے کے لیے مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یو ٹی) کا دورہ کرے گی۔ ریٹائرڈ جسٹس پرکاش پربھاکر نائولیکر کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے آج وزیر داخلہ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس موقع پر کمیٹی نے بتایا کہ وہ اپنے دوروں کے دوران ریاستی حکومتوں اور یو ٹی انتظامیہ سے تفصیلی معلومات حاصل کرے گی، جبکہ آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق مختلف موضوعات پر مرکزی حکومت کی وزارتوں سے بھی مشاورت کی جائے گی۔
ریاستوں کے لیے تفصیلی سوالنامہ تیار
کمیٹی نے وزیر داخلہ کو یہ بھی بتایا کہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے پیشگی معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک مفصل سوالنامہ تیار کیا گیا ہے، تاکہ دوروں کو زیادہ مؤثر، بامعنی اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔ امت شاہ نے کمیٹی کی حکمت عملی کو سراہتے ہوئے مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن کو ہدایت دی کہ وہ کمیٹی کے روزمرہ کے کاموں اور ریاستوں کے دوروں کے دوران ہر ممکن انتظامی تعاون فراہم کریں۔ وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق وزیر داخلہ نے کمیٹی سے کہا کہ وہ اپنی سفارشات جلد از جلد حکومت کو پیش کرے۔
کمیٹی کا قیام وزیراعظم کے اعلان کے بعد عمل میں آیا
یاد رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے 15 اگست 2025 کو یومِ آزادی کے موقع پر اس کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں 26 مئی 2026 کو اس کمیٹی کو باضابطہ طور پر تشکیل دیا گیا تاکہ غیر قانونی دراندازی اور دیگر غیر معمولی عوامل کے باعث پیدا ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کا مطالعہ کیا جا سکے اور ان سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات تجویز کیے جا سکیں۔ چھ رکنی کمیٹی کے چیئرمین ریٹائرڈ جسٹس پرکاش پربھاکر نائولیکر ہیں، جبکہ وزارت داخلہ کے جوائنٹ سکریٹری (فارنرز-I) اس کے رکن سکریٹری ہیں۔ دیگر ارکان میں مردم شماری کمشنر، ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر درگا شنکر مشرا، ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر بالاجی سریواستو اور ماہر معاشیات شامیکا روی شامل ہیں۔ کمیٹی ملک کے مختلف حصوں میں غیر قانونی دراندازی اور دیگر غیر معمولی عوامل سے پیدا ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لے گی، ان کے اسباب کا تجزیہ کرے گی اور مناسب پالیسی، قانونی اور انتظامی اقدامات کی سفارش کرے گی۔ 13 جون کو امت شاہ نے وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمیٹی کو ہدایت دی تھی کہ وہ سرحدی اضلاع، سرحدی علاقوں، میٹرو شہروں اور صنعتی مراکز میں آبادیاتی تبدیلیوں کا خصوصی جائزہ لے۔
غیر قانونی دراندازی اور سماجی اثرات پر توجہ
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ملک کے بعض علاقوں میں آبادیاتی تبدیلیاں معمول کی شرح پیدائش یا شرح اموات کی وجہ سے نہیں بلکہ غیر قانونی دراندازی، غیر منظم نقل مکانی اور انتظامی کمزوریوں جیسے غیر معمولی عوامل کے باعث رونما ہو رہی ہیں۔ قرارداد کے مطابق ان تبدیلیوں کے اثرات صرف سرحدی اضلاع تک محدود نہیں رہے بلکہ شہری علاقوں، صنعتی راہداریوں، قبائلی خطوں اور دیگر حساس علاقوں تک بھی پہنچ چکے ہیں، جس سے عوامی خدمات، مقامی نظم و نسق، وسائل کی تقسیم اور سماجی ہم آہنگی متاثر ہوئی ہے۔ کمیٹی کو یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی قانونی، منصفانہ اور مقررہ مدت میں شناخت، حراست اور ملک بدری کے لیے مستقل اور منظم نظام کی سفارش کرے۔ اس کے علاوہ سرحدی انتظام، آبادی کے استحکام، شناختی نظام اور مرکز و ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل کے لیے جامع پالیسی فریم ورک بھی تجویز کیا جائے گا۔ کمیٹی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر ماہرین، سرکاری اداروں، مقامی حکومتوں، سیکورٹی ایجنسیوں، سماجی تنظیموں اور تعلیمی اداروں سے مشاورت کرے۔ وزارت داخلہ کمیٹی کو تمام انتظامی اور لاجسٹک سہولتیں فراہم کرے گی۔ کمیٹی کا صدر دفتر نئی دہلی میں ہوگا اور اسے ایک سال کے اندر اپنی حتمی رپورٹ پیش کرنا ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


