کاکروچ جنتا پارٹی یعنی CJP دارالحکومت دہلی کی سیاست میں ان دنوں کافی زیر بحث ہے۔ تاہم اپنی ایک اہم میٹنگ سے قبل ہی پارٹی کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ CJP کے بانی ابھجیت دیپکے نے حکمراں بی جے پی پر انتہائی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے رضاکاروں کی میٹنگ کے لیے دہلی میں کوئی ہال کرائے پر دینے کو تیار نہیں ہے اور جن لوگوں نے ہال فراہم کیا تھا، انہیں ’’الٹا لٹکا دینے‘‘ کی خوفناک دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
’’اوپر سے دباؤ ہے، الٹا لٹکا دیں گے…‘‘
ابھجیت دیپکے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنا غصہ ظاہر کیا۔ انہوں نے کہاکہ’’آج ہماری میٹنگ ہونی تھی۔ ہم 10 جگہوں پر گئے، لیکن سب نے کہا کہ اوپر سے دباؤ ہے، ہم آپ کو ہال نہیں دے سکتے۔ بڑی مشکل سے ایک ہال ملا تھا، لیکن آج صبح اس کے مالک کو دھمکی دی گئی کہ اگر CJP کی میٹنگ ہونے دی تو الٹا لٹکا دیا جائے گا۔‘‘دیپکے نے براہ راست الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب بی جے پی کروا رہی ہے، کیونکہ وہ ملک کے نوجوانوں سے خوفزدہ ہوگئی ہے۔ انہوں نے چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ ایسی چھوٹی موٹی حرکتوں سے CJP ڈرنے والی نہیں ہے۔
’جنتر منتر سیزن 2‘ کا بڑا اعلان
CJP دھمکیوں کے بعد خاموش بیٹھنے والی نہیں ہے۔ پارٹی کے بانی دیپکے نے اعلان کیا ہے کہ نوجوانوں کی زبردست مانگ پر ’جنتر منتر‘ کا سیزن 2 بہت جلد شروع ہونے والا ہے۔ انسٹاگرام پر مسلسل پوچھے جا رہے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ جلد ہی دہلی کی سڑکوں پر ایک بڑی نوجوان تحریک دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
15 اگست سے ’کیا بولتی پبلک‘ مہم
اسی سلسلے میں پارٹی کے ترجمان آشوتوش رانکا نے بھی بڑا اعلان کیا ہے۔ CJP آئندہ 15 اگست، یوم آزادی سے ملک بھر میں ’کیا بولتی پبلک‘ کے نام سے ایک بڑی مہم شروع کرنے جا رہی ہے۔ رانکا نے کہا کہ آزادی کے بعد سے سرکاری اسکولوں کو تباہ کیا گیا ہے اور دیہات کے بچوں کو مزدوری کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔CJP اس مہم کے تحت سرپنچوں سے سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کا مطالبہ کرے گی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو گاؤں گاؤں میں شدید احتجاج کیا جائے گا۔CJP کے ان جارحانہ تیوروں نے دہلی سے لے کر ملک کی سیاست تک ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ ’جنتر منتر سیزن 2‘ اور ’کیا بولتی پبلک‘ مہم کو عوام کی جانب سے کس طرح کا ردعمل ملتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


