Urdu Conclave 2026

Global Financial Crisis Warning: اکنامک سروے نے جاری کی وارننگ، 2026 میں 2008 جیسے عالمی مالی بحران کا 10 تا 20 فیصد امکان

حکومت ہند کے اکنامک سروے 2026 میں مالیاتی، تکنیکی اور جغرافیائی سیاسی دباؤ کے باہمی امتزاج کو عالمی معیشت کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا گیا، اے آئی انفراسٹرکچر میں حد سے زیادہ سرمایہ کاری بھی تشویش کا سبب۔ یہ پیش گوئی عالمی معیشت کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔

نئی دہلی: حکومت ہند کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اکنامک سروے 2026 میں ایک تشویشناک پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے مطابق سال 2026 میں 2008 جیسے عالمی مالی بحران کے دوبارہ رونما ہونے کا امکان 10 سے 20 فیصد تک موجود ہے۔ سروے میں خبردار کیا گیا ہے کہ مالیاتی نظام میں بڑھتے ہوئے دباؤ، جدید ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت (AI) میں تیز رفتار سرمایہ کاری اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باہمی اثرات کسی بڑے سسٹمک شاک (Systemic Shock) کو جنم دے سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی معیشت ایک بار پھر شدید بحران کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔

اکنامک سروے کی اہم پیش گوئیاں

اکنامک سروے کے مطابق عالمی معیشت اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہی ہے جہاں مالیاتی، تکنیکی اور جغرافیائی سیاسی عوامل ایک دوسرے کو تقویت دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ان عوامل کے درمیان توازن برقرار نہ رکھا گیا تو یہ ایک چین ری ایکشن کی صورت اختیار کر سکتے ہیں، جس کا نتیجہ 2008 کے عالمی مالی بحران جیسی صورت حال میں نکل سکتا ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں شرح سود میں اضافہ، قرضوں کے بوجھ میں اضافہ، اسٹاک مارکیٹ میں غیر یقینی صورت حال اور سرمایہ کاری کے رجحانات میں تیزی سے تبدیلی ایسے عوامل ہیں جو کسی بڑے بحران کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔

اے آئی انفراسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری اور خطرات

رپورٹ میں خاص طور پر مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ہونے والی بھاری سرمایہ کاری پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ سروے کے مطابق دنیا بھر میں حکومتیں اور نجی کمپنیاں بڑے پیمانے پر اے آئی ڈیٹا سینٹرز، ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ سسٹمز اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر میں سرمایہ لگا رہی ہیں، جس سے اثاثوں کی قیمتوں میں غیر فطری اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اکنامک سروے نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس شعبے میں اچانک اصلاح (Correction) آئی تو اس کے اثرات صرف ٹیکنالوجی سیکٹر تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بینکنگ سسٹم، سرمایہ مارکیٹ اور عالمی تجارت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایسی صورت حال میں کریڈٹ کی دستیابی کم ہو سکتی ہے، مالی حالات سخت ہو سکتے ہیں اور سرمایہ کاری کا بہاؤ متاثر ہو سکتا ہے۔

جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا کردار

سروے میں عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کو بھی خطرے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ، یوکرین، تائیوان اور دیگر حساس خطوں میں جاری تنازعات، تجارتی پابندیاں اور اقتصادی پابندیاں عالمی سپلائی چین کو متاثر کر رہی ہیں۔ اکنامک سروے کے مطابق اگر یہ کشیدگیاں مزید بڑھتی ہیں تو توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، اشیائے خوردونوش کی قلت اور عالمی تجارت میں سست روی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جو کسی بھی بڑے مالی بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔

2008 کے بحران سے سبق

اکنامک سروے میں 2008 کے عالمی مالی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس بحران نے دنیا بھر کی معیشتوں کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ اس وقت بینکنگ نظام کی کمزوریاں، غیر ذمہ دارانہ قرضہ پالیسی، ہاؤسنگ مارکیٹ میں بلبلہ (Bubble) اور مالیاتی نگرانی کی کمی بنیادی اسباب تھے۔ سروے کے مطابق اگرچہ آج عالمی مالیاتی نظام پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہے، لیکن نئے خطرات جیسے ٹیکنالوجی ببل، سائبر سکیورٹی خدشات اور ڈیجیٹل کرنسیوں کی غیر یقینی صورت حال مستقبل میں بڑے بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔

بھارتی معیشت کے لیے مواقع اور چیلنجز

اکنامک سروے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ بھارت کو عالمی غیر یقینی صورت حال کے باوجود اپنی معاشی بنیادوں کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کی مضبوط گھریلو طلب، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم اور اصلاحات پر مبنی پالیسیوں کی بدولت ملک کسی حد تک عالمی جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم سروے نے یہ بھی کہا ہے کہ برآمدات میں سست روی، بیرونی سرمایہ کاری میں کمی اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ بھارت کے لیے بڑے چیلنجز بن سکتے ہیں۔

حکومتی حکمت عملی اور آئندہ کا لائحہ عمل

اکنامک سروے میں سفارش کی گئی ہے کہ حکومت کو مالی نظم و ضبط، بینکنگ اصلاحات، ڈیجیٹل معیشت کے تحفظ اور عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی ریگولیٹری فریم ورک کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ کسی ممکنہ بحران کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تو نہ صرف عالمی سطح پر ممکنہ مالی بحران کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ بھارت اپنی معاشی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے ایک مضبوط عالمی معیشت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ اکنامک سروے 2026 کی یہ پیش گوئی عالمی معیشت کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ اگرچہ 2008 جیسا بحران یقینی نہیں، مگر 10 تا 20 فیصد امکان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ حکومتیں، مالیاتی ادارے اور عالمی تنظیمیں احتیاطی اقدامات کریں تاکہ دنیا ایک بار پھر کسی بڑے مالی دھچکے سے محفوظ رہ سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read