علاقائی ہم آہنگی کے پُل بنانا
کولکاتہ میں امریکی قونصل جنرل کے زیر اہتمام مکالموں کا ایک سلسلہ شمال مشرقی ہندوستان کے اہم شرکاء کو یکجا کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ اس یکجائی کا مقصد آزاد اور کشادہ ہند۔ بحرالکاہل خطے کے بارے میں علاقائی سوچ کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
گریراج اگروال
ایسے میں جب کہ امریکہ اور ہندوستان، ہند۔ بحرالکاہل خطے میں اپنی اسٹریٹجک شراکت کو مستحکم کررہے ہیں ، ہندوستان کا شمال مشرقی علاقہ اس متحرک خطے تک رسائی کا ایک اہم دروازہ بنتا جارہا ہے۔ خلیج بنگال کے قریب ہونے اور جنوب مشرقی ایشیا سے قربت کے باعث یہ خطہ تجارت، روابط اور معاشی ترقی کے مشترکہ مقاصد کے لیے نہایت اہم ہے۔انہی علاقائی آوازوں کو شامل کرنے اور دو طرفہ تعلقات کے معاشی اثرات کو نمایاں کرنے کے لیے کولکاتہ کے امریکی قونصل خانہ نے 18 ماہ پر مشتمل ایک پہل شروع کی ہے جس کا عنوان ہے : ’’ ہند۔ بحرالکاہل کے لیے امریکی اسٹریٹجک فریم ورک: شمال مشرقی مکالمہ۔‘‘
اوآر ایف اور کولکاتہ کے امریکی قونصل خانہ کے اشتراک سے شروع کیے گئے اس پروگرام کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ امریکہ اور ہندوستان کا تعاون کس طرح خطے کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لا سکتا ہے۔ اس میں تجارتی نظام، رابطہ اور معیشت کو جوڑنے پر زو ر دیا گیا ہے جیسا کہ 2025 کے امریکہ۔ ہندوستان کے سربراہانِ مملکت کے مشترکہ بیان میں ذکر کیا گیا۔ یہ اقدام تجارت اور کاروبار میں دو طرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے اور ہند۔بحرالکاہل خطے کو مضبوط تجارتی روابط اور محفوظ سپلائی چینس کے ذریعے مستحکم کرنے کے وژن کو تقویت دے گا۔
یہ منصوبہ پانچ ہائبرڈ علاقائی مکالموں، ایک آن لائن مکالمے اور دو قومی سطح کی ملاقاتوں کے ذریعے شمال مشرقیہندوستان کے تعلیمی، سرکاری، صنعتی اور سماجی شعبے سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد کو یکجا کرے گا۔
سِکّم میں مکالمے کی افتتاحی تقریب میں کولکاتہ میں واقع امریکی قونصل خانہ کی قونصل جنرل کیتھی جائلز ۔ڈیاز نے کہا کہ شمال مشرق ہند۔ بحرالکاہل خطے کو زیادہ خوشحال اور محفوظ بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
قونصل جنرل نے کہا’’ امریکہ ایک آزاد اور کشادہ ہند۔بحرالکاہل خطے کا مضبوط حامی ہے۔ یہ صرف کوئی نعرہ نہیں بلکہ ہمارے تمام اقدامات کا رہنما اصول ہے۔ پائیدار اور مضبوط بنیادی ڈھانچہ بنانا ہند۔بحرالکاہل خطے کی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔یہ صرف سڑکوں، ریل اور بندرگاہوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں ایسے ڈیجیٹل نیٹ ورک بھی شامل ہیں جو رابطوں اور تجارت کو بہتر بناتے ہیں۔ شمال مشرق ہندوستان کو جنوب مشرقیایشیا سے جوڑنے میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ہم امریکہ اور ہند۔بحرالکاہل ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں، خاص طور پر سِکّم اور شمال مشرقیہندوستان کی متنوع اور مالامال برادری کے ساتھ۔‘‘
مکالمے کے ذریعہ شمال مشرقی علاقے سے رابطہ کرنا
اوآر ایف ٹیم کا کہنا ہے کہ مکالمے کا اہم مقصد ’’ خطے کی زمینی اور ڈیجیٹل رابطہ کاری کا جائزہ لینا‘‘ ہے، خاص طور پر ’’ دریائی اور سمندری ڈھانچے پر توجہ دی جا رہی ہے جو خلیج بنگال کے راستے شمال مشرق کو ہند۔بحرالکاہل خطے سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔‘‘ اس پروجیکٹ کے تحت اس بات کی جانچ بھی کی جاتی ہے کہ امریکہ اور ہندوستان کس طرح بنیادی ڈھانچے کمی کو پورا کرنے کے لیے اپنے لاجسٹِکس (مال، سامان یا خدمات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا مکمل انتظام اور منصوبہ بندی) کو بہتر بناتے ہیں۔
پالیسی پر مبنییہ گفتگو پہلے ہی میگھالیہ، آسام اور سکّم میں ہو چکی ہے اور اگلے مرحلے میںیہ سلسلہ تریپورہ، میزورم اور منی پور میں جاری رہے گا۔ اس کے بعد قومی سطح کے اجلاس کولکاتہ اور نئی دہلی میں منعقد ہوں گے۔
ہند۔بحرالکاہل خطے پر وسیع تر نقطۂ نظر
اوآر ایف کے مطابق، اس منصوبے نے شرکاء کے خیالات میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔ مکالمے کے بعد کے جائزے سے پتا چلا کہ اب زیادہ لوگ ہند۔بحرالکاہل خطے کے لیے امریکی حکمتِ عملی کو ایک وسیع زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔
یہ بدلا ہوا رویہ اسٹیک ہولڈرس (متعلقہ افراد)کو یہ سمجھنے کا موقع دے رہا ہے کہ مقامی ترقیاتی ضروریات اور تجارتی مقاصد عالمی پالیسیوں سے کیسے جڑتے ہیں جو خطے میں خوشحالی لانے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ اس طرح کے پروگرام ایک ایسے ہند۔بحرالکاہل کی تشکیل میں مدد کر رہے ہیں جہاں قانون، جمہوریت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ہو اور معیشت، استحکام اور سلامتی بنیاد بنیں۔
مقامی بات چیت، عالمی معنویت
تریپورہیونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسربِپلَب دیب ناتھ کا کہنا ہے کہ اس مکالمے نے خطے کی عالمی حکمت عملی میں کردار پر گفتگو کے لیے اہم موقع دیا۔ انہوں نے کہا ’’ چھوٹے گروپوں میں ہونے والے اجلاس نے اس بات پر مفصل بحث کا موقع دیا کہ ریاست سے خطے اور عالمی سطح تک تجارتی روابط کے کیا امکانات ہیں ، بنیادی ڈھانچے میں کہاں کمی ہے اور خطے کے اندر اور باہر زمینی اور سمندری رابطے کے امکانات کتنے ہیں۔ ‘‘
انہوں نے کہا کہ ان مکالموں نے مقامی تجربات کو بڑے جغرافیائی سیاسی مباحثوں سے جوڑنے کا موقع دیا۔ دیب ناتھ کے مطابق’’ پینل میں شامل افراد کے ساتھ بات چیت بہت کارآمد رہی۔ انہوں نے تجارت، بنیادی ڈھانچے اور تعاون کا جائزہ مقامی، علاقائی اور عالمی زاویے سے لیا اور ان باتوں کو ہند۔بحرالکاہل کے تناظر اور اس شعبے میں امریکہ ۔ہندوستان تعاون کے امکانات کے ساتھ جوڑا۔‘‘
دیب ناتھ کا کہنا ہے کہ مقامی حکمرانی پر یہ بات چیت علاقائی ترقی اور رابطہ کاری پر بھی اثر ڈالتی ہے۔
دیب ناتھ کے مطابق ’’ میگھالیہ کے مکالمے میں ایسے کئی مقامی نکات سامنے آئے جن کا اثر بڑے علاقائی اور عالمی مسائل پر پڑتا ہے۔ مثلاً، دریائی رابطوں اور اندرونی آبی راستوں کو بہتر بنانے کے لیے مقامی پالیسیوں پر ہونے والی گفتگو پورے خطے میں سمندری روابط اور تعاون کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔‘‘
دیب ناتھ نے مقامی ترجیحات کو ہند۔بحرالکاہل خطے کی بڑی حکمتِ عملی سے جوڑتے ہوئے خطے کی سمندری اہمیت واضح کی۔انہوں نے کہا ’’اپنی اسٹریٹجک حیثیت، بحری راستوں اور وسائل کی وجہ سے خلیج بنگال، ہند۔بحرالکاہل کی سیاست میں بہت اہم ہے۔ یہ سمندری راستہ تجارت اور توانائی کے بہاؤ کے لیے اہم ہے اور خطے سمیت دنیا کے کئی ملکوں کی معیشت اور طاقت کے توازن کو متاثر کرتا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس مکالمے کے تجربات کو عملی شکل دینا چاہتے ہیں ’’ میرا ارادہ ہے کہ اس مکالمے کے نکات کو استعمال کر کے تھنک ٹینکس کے لیے پالیسی سفارشات تیار کروں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ شمال مشرقی خطہ امریکہ۔ ہندوستان تعاون میں کیا کردار ادا کرسکتا ہے۔ ‘‘
نجی شعبے کا نقطہ نظر
میلینا لیپچا، جو گنگٹوک میں رہوبوتھ ٹورس اینڈ ٹریولز کی بانی ہیں، نے مئی 2025 میں سکم میں ہونے والے مکالمے میں حصہ لیا۔ یہ ایک روزہ پروگرام تھا جس میں پالیسی ساز، ماہرینِ صنعت اور ماہرینِ تعلیم سمیت 45 افراد نے شرکت کی۔ لیپچا نے بتایا’’ یہ ملاقاتیں بہت فائدہ مند رہیں۔ ہم نے شمال مشرق، خاص طور پرسِکّم، کے چیلنجز اور مواقع پر بات کی، اور یہ سب ہند۔بحرالکاہل کی حکمتِ عملی کے تناظر میں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مکالمے نے شمال مشرقی خطے کی معاشی اہمیت کو نمایاں کیا۔ ‘‘
لیپچا کا کہنا ہے’’ شمال مشرق تجارت اور معیشت کے لیے نہایت اہم ہے۔ رابطوں اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل ضرور ہیں، لیکن سرحد پار تجارت، سیاحت اور صنعت کے فروغ کے بڑے مواقع بھی ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا’’ ہند۔بحرالکاہل حکمتِ عملی سے نہ صرف زمینی اور ڈیجیٹل رابطے بہتر ہوں گے بلکہ قدرتی وسائل کے تحفظ کے ساتھ معیشت کو جوڑنے کے نئے راستے بھی کھلیں گے۔‘‘
پروگرام کے دوران منتظمین اور شرکاء کی ایک ہی امید ہے کہ شمال مشرقی خطے میں ہند۔بحرالکاہل سے متعلق شعور میں بہتری آئے اور امریکہ اور ہندوستان کے درمیان رابطے اور صلاحیت سازی کے ذریعے تعاون مزید گہرا ہو۔
او آر ایف ٹیم کے مطابق ’’ ہم چاہتے ہیں کہ شمال مشرق میں مقامی سطح پر کام کرنے والے لوگ ہند۔بحرالکاہل اور اس شعبے میں امریکہ ۔ ہندوستان تعاون کے مواقع سے زیادہ باخبر ہوں۔‘‘
لیپچا کے مطابق، وہ اب ایسی پالیسیوں کی وکالت کا ارادہ رکھتی ہیں جو بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور شمال مشرق، خاص طور پر سِکّم، کی معیشت کو تجارتی و معاشی دھارے میں لانے میں مدد دیں۔
بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

