Bharat Express DD Free Dish

BrahMos: براہموس میزائل بن چکا ہے بھارت کی دفاعی برآمدات کی ایک نہایت کامیاب کہانی

بھارت نے حالیہ برسوں میں دفاعی برآمدات کو بڑھانے کی جانب نمایاں پیش رفت کی ہے اور اس میدان میں سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی ٹیکنالوجی براہموس میزائل سسٹم ہے۔

بھارت نے حالیہ برسوں میں دفاعی برآمدات کو بڑھانے کی جانب نمایاں پیش رفت کی ہے اور اس میدان میں سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی ٹیکنالوجی براہموس میزائل سسٹم ہے۔ یہ میزائل اب بھارت کی ایک نمایاں دفاعی برآمد بن چکا ہے اور فلپائن کو اس کی دوسری کھیپ روانہ کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت کی جانب سے فلپائن کو بھیجی گئی دوسری کھیپ ایک بحری جہاز کے ذریعے روانہ کی گئی، جب کہ پہلی کھیپ اپریل 2024 میں انڈین ایئر فورس کے C-17 گلوب ماسٹر طیارے کے ذریعے فلپائن پہنچائی گئی تھی۔

بھارت-فلپائن دفاعی معاہدہ

جنوری 2022 میں بھارت اور فلپائن کے درمیان براہموس میزائل کی فروخت کا معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کے تحت فلپائن کو تین بیٹریاں فراہم کی جائیں گی، ساتھ ہی میزائل آپریٹرز کی تربیت اور ضروری لاجسٹک سپورٹ بھی شامل ہے۔ اس معاہدے کی مالیت 374.96 ملین ڈالر (تقریباً 2,700 کروڑ روپے) ہے۔ براہموس میزائل آواز کی رفتار سے بھی تقریباً تین گنا (2.8 میک) تیز رفتار سے پرواز کرتا ہے اور اسے زمین، سمندر، فضا اور آبدوز سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔

براہموس میں مقامی کاری کی پیش رفت

’’اکانومک ٹائمز‘‘ کے مطابق براہموس میزائل کا 83 فیصد حصہ اب بھارت میں تیار ہوتا ہے۔ حال ہی میں انڈین ایئر فورس نے ایک Su-30 ایم کے آئی لڑاکا طیارے سے 400 کلومیٹر دور ہدف پر کامیابی سے براہموس کے طویل فاصلے والے ورژن کا تجربہ بھی کیا ہے۔

خطے میں تزویراتی اثرات

فلپائن کے چیف آف اسٹاف جنرل رومیو براونر جونیئر نے کہا ہے کہ ان کا ملک بھارت کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا ’’ہم براہموس میزائل سسٹم سے خوش ہیں اور مزید نظام اور پلیٹ فارمز حاصل کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ یہ جنوبی بحیرۂ چین میں مؤثر دفاعی نظام کے طور پر کام کر رہا ہے۔‘‘

ویتنام، انڈونیشیا اور دیگر ممالک بھی دلچسپی رکھتے ہیں

ویتنام بھی براہموس خریدنے کے آخری مراحل میں ہے۔ ہندوستان کے ساتھ ویتنام کا تقریباً 700 ملین ڈالر مالیت کا معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے۔ ویتنام کی دلچسپی کا پس منظر چین کی جنوبی بحیرۂ چین پر بڑھتی عسکری سرگرمیاں ہیں۔ اسی طرح بھارت، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، ارجنٹینا، اور چند افریقی اور لاطینی امریکی ممالک کے ساتھ بھی بات چیت کر رہا ہے۔ انڈونیشیا کی وزارت دفاع نے جنوری میں بھارتی سفارت خانے کو 450 ملین ڈالر مالیت کے ممکنہ معاہدے میں دلچسپی کا خط بھی بھیجا ہے۔

براہموس ایرو اسپیس کے سابق سی ای او اتل دنکر رانے نے 2023 میں بتایا تھا کہ نیٹو اور مغربی ممالک سمیت تقریباً درجن بھر ممالک اس ہتھیار میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ’’ایک غیر ملکی بحریہ کے سربراہ نے کہا: میں اس میزائل کے مخالف طرف نہیں آنا چاہتا، میں اسے اپنی طرف دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘

لکھنؤ میں براہموس مینوفیکچرنگ سینٹر

براہموس میزائل کی تیاری اب بھارت کے شہر لکھنؤ میں بھی کی جائے گی۔ 11 مئی کو وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اس فیکٹری کا افتتاح کریں گے۔ یہ منصوبہ DRDO اور براہموس ایرو اسپیس کا مشترکہ اقدام ہے اور یوپی ڈیفنس انڈسٹریل کوریڈور کے تحت آتا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں 100 میزائل تیار کیے جائیں گے اور اگلے 5 سے 7 سالوں میں تقریباً 900 کروڑ روپے کے میزائل تیار کیے جانے کی توقع ہے۔ اس فیکٹری سے 10,000 سے 12,000 مقامی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی۔ DRDO آئندہ پانچ سالوں میں اس منصوبے میں 10,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گا۔

بھارتی دفاعی برآمدات: اعداد و شمار کی روشنی میں

مالی سال 2023-24 میں بھارت کی دفاعی پیداوار 1.27 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ یہ رقم 2014-15 میں 46,429 کروڑ روپے تھی۔ دفاعی برآمدات بھی 2013-14 کے 686 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2023-24 میں 21,083 کروڑ روپے ہو گئی ہیں جو کہ 30 گنا اضافہ ہے۔ 2014 سے 2024 تک کی دہائی میں برآمدات 4,312 کروڑ روپے سے بڑھ کر 88,319 کروڑ روپے ہو چکی ہیں۔ صرف 2022-23 سے 2023-24 کے درمیان 32.5 فیصد اضافہ ہوا۔

بھارت اب دنیا کے 100 سے زائد ممالک کو دفاعی سازوسامان برآمد کرتا ہے۔ امریکہ، فرانس اور آرمینیا 2023-24 کے سرفہرست خریداروں میں شامل ہیں۔ بھارت کی اہم برآمدات میں بلٹ پروف جیکٹس، Dornier طیارے، چیتک ہیلی کاپٹرز، تیز رفتار کشتیاں اور ہلکے ٹارپیڈوز شامل ہیں۔

مستقبل کا وژن

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ اس سال دفاعی پیداوار 1.60 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر جائے گی اور 2029 تک ان کا ہدف 3 لاکھ کروڑ روپے کی برآمدات تک پہنچنا ہے۔ دفاعی برآمدات کا ہدف اس سال 30,000 کروڑ روپے اور 2029 تک 50,000 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔ انھوں نے کہا ’’ہماری دفاعی طاقت صرف سلامتی کے لیے نہیں، بلکہ امن کے قیام کے لیے ہے۔ امن صرف اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب ہم مضبوط ہوں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کا دفاعی شعبہ عالمی سطح پر خودکفالت اور قیادت کی طرف بڑھ رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read