Bharat Express DD Free Dish

Azam Khan to be released today: سیتاپور جیل سے 23 ماہ بعد ہوگی اعظم خان کی رہائی، سیکورٹی کے سخت انتظامات، ریاستی سیاست کے تناظر میں اہم پیش رفت

رہائی کے فوراً بعد اعظم خان رامپور کے لیے روانہ ہوں گے، جہاں پارٹی کارکنان اور حامیوں نے ان کے شاندار استقبال کی تیاری کی ہے۔ سیاسی گلیاروں میں بھی ان کی رہائی کو لے کر بحثیں تیز ہو گئی ہیں اور اسے ریاستی سیاست کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان جو گزشتہ 23 ماہ سے اترپردیش کی سیتاپور جیل میں قید تھے، آج (منگل 23 ستمبر) صبح جیل سے رہا ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق ان کی رہائی صبح 7 بجے متوقع ہے۔ جیل انتظامیہ نے رہائی کے عمل کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات کیے ہیں تاکہ سب کچھ پُرامن طریقے سے انجام پا سکے۔

رامپور میں ہوگا استقبال

رہائی کے فوراً بعد اعظم خان رامپور کے لیے روانہ ہوں گے، جہاں پارٹی کارکنان اور حامیوں نے ان کے شاندار استقبال کی تیاری کی ہے۔ سیاسی گلیاروں میں بھی ان کی رہائی کو لے کر بحث تیز ہو گئی ہیں اور اسے ریاستی سیاست کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اعظم خان کے وکیل کا بیان

اعظم خان کے وکیل زبیر محمد خان نے بتایا کہ: ’’محمد اعظم خان کے کورٹ سے تقریباً 55 پروانے گئے ہیں، باقی دیگر عدالتوں سے بھی پروانے جاری ہوئے ہیں۔ کُل تعداد کا تعین ابھی مشکل ہے، کچھ پروانے پہلے ہی جیل انتظامیہ تک پہنچ چکے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ اعظم خان مختلف مقدمات کے تحت سیتاپور جیل میں بند تھے، جن میں زمین پر قبضہ اور سرکاری جائیداد کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات شامل ہیں۔ کچھ مقدمات میں انہیں الٰہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملی، جبکہ دیگر مقدمات میں کارروائی جاری ہے۔

اہلیہ نے صحت پر کیا تھا خدشات کا اظہار

حال ہی میں اعظم خان کی صحت کے تعلق سے ان کی اہلیہ تنزین فاطمہ نے تشویش ظاہر کی تھی۔ اسی دوران ان کے بیٹے عبداللہ اعظم بھی جیل میں ان سے ملاقات کے لیے پہنچے تھے اور ادویات کے ساتھ کھانے پینے کی اشیاء بھی لے کر گئے تھے۔ ملاقات کے دوران زیادہ تر گفتگو خاندانی اور قانونی معاملات پر مرکوز رہی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read