رام پور (اتر پردیش) سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان نے منگل کے روز کہا کہ وہ ’وائی کیٹیگری‘ سکیورٹی صرف اسی صورت میں قبول کریں گے جب انہیں حکومت کی جانب سے اس بارے میں تحریری یقین دہانی دی جائے۔ اعظم خان حال ہی میں سیتاپور جیل سے رہائی کے بعد رام پور پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’مجھے ابھی تک کوئی تحریری اطلاع نہیں ملی ہے۔ میں نے کانسٹیبل سے بھی کہا کہ جب تک تحریری یقین دہانی نہیں دی جاتی میں سکیورٹی قبول نہیں کر سکتا۔‘‘
’’کیسے مان لوں کہ ہتھیار بند لوگ حکومت کے ہیں؟‘‘
اعظم خان نے سکیورٹی پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تجربات نے انہیں محتاط رہنا سکھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’میری حالت نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ محتاط رہوں۔ مجھ پر سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضے کے الزامات لگائے گئے، حکومت نے انہیں ہٹایا، زمین حکومت نے دی تھی مگر سزا مجھے ملی، 21 سال کی قید اور 36 لاکھ روپے جرمانہ۔ اب میں کیسے مان لوں کہ یہ وردی والے لوگ حکومت کے ہیں جب تک تحریری یقین دہانی نہ ہو؟‘‘
مالی مشکلات کا اظہار
اعظم خان نے مزید کہا کہ ان پر عائد 36 لاکھ روپے کے جرمانے کے بعد ان کی مالی حالت کمزور ہے اور وہ سکیورٹی اہلکاروں کے لیے گاڑی فراہم نہیں کرسکتے۔ ’’میری مالی حالت ایسی نہیں کہ میں سکیورٹی کے لیے گاڑی کا انتظام کر سکوں۔ وائی کیٹیگری سکیورٹی میں گاڑی، پٹرول سب کچھ فراہم کرنے کی گنجائش ہوتی ہے مگر میرے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا۔‘‘
سکیورٹی پر اعتماد کا فقدان
اعظم خان نے کہا کہ پہلے جب انہیں وائی کیٹیگری سکیورٹی ملی تھی اس وقت وہ مجرم نہیں تھے، لیکن اب جب ان کے خلاف 21 سال کی سزا اور کئی مقدمات ہیں تو انہیں اندیشہ ہے کہ یہ سکیورٹی کسی بھی وقت واپس لی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں یقین کے ساتھ کیسے کہوں کہ یہ سکیورٹی فورسز کل واپس نہیں لی جائیں گی؟ جب تک تحریری یقین دہانی نہیں کرائی جائے گی میں سکیورٹی نہیں لوں گا۔‘‘
اعظم خان کی رہائی اور قانونی صورتحال
اعظم خان تقریباً 23 ماہ کی قید کے بعد رہا ہوئے ہیں۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے انہیں کوالٹی بار لینڈ کیس میں ضمانت دی تھی۔ ان کے وکیل محمد خالد نے بتایا کہ اب اعظم خان کے خلاف کوئی زیر سماعت مقدمہ نہیں بچا ہے۔ اب تمام مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے اس لیے ان کی رہائی کی راہ صاف ہے۔
اکھلیش یادو سے ملاقات
اس سے قبل 8 اکتوبر کو سماجوادی پارٹی کے صدر اور اترپردیش کے سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے اعظم خان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی تھی۔ اکھلیش یادو نے ایکس پر ملاقات کے حوالے سے لکھا تھا: ’’یہ ملاقات ایسی کہانی ہے جہاں الفاظ نہیں، جذبات بولے۔ میں ان کی خیریت دریافت کرنے آیا تھا۔ اعظم خان پارٹی کے سینئر رہنما ہیں، ان کی رہنمائی ہمیشہ ہمارے ساتھ رہی ہے۔ یہ ایک بڑی لڑائی ہے اور ہم انصاف کے لیے لڑیں گے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



