Bharat Express DD Free Dish

Atal Bihari Vajpayee biography: پوکھرن سے لاہور تک… الفاظ سے دل جیتنے والےسابق وزیر اعظم، اٹل بہاری واجپائی کا منفرد سیاسی سفر

بھارت رتن اٹل بہاری واجپائی کی پیدائش 25 دسمبر 1924 کو گوالیار میں ہوئی۔ وہ تین مرتبہ بھارت کے وزیر اعظم بنے اور پوکھران ایٹمی تجربات، لاہور بس یاترا اور گولڈن کوآڈری لیٹرل جیسے تاریخی اقدامات کیے۔

اٹل بہاری واجپائی کی پیدائش 25 دسمبر 1924 کو مدھیہ پردیش کے گوالیار میں ہوئی۔ بچپن ہی سے انہیں ادب اور شاعری سے گہرا شغف تھا۔ تعلیم کے دوران ہی وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ ہو گئے اور یوں ان کا رجحان سیاست کی طرف بڑھا۔ ان کی زبان میں ایسا سحر تھا کہ لوگ انہیں سننے کے لیے دور دور سے آیا کرتے تھے۔

سیاست میں قدم اور پہچان

واجپائی جی نے بھارتیہ جن سنگھ کے ذریعے سیاست کا آغاز کیا اور بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بانی لیڈروں میں شامل ہوئے۔ پارلیمنٹ میں ان کی تقاریر آج بھی یاد کی جاتی ہیں۔ سیاسی مخالفین بھی ان کے دلائل اور شائستہ زبان کا احترام کرتےتھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں ایک ہمہ گیر اور سب کے لیے قابلِ قبول لیڈر مانا جاتا تھا۔

وزیر اعظم کے طور پر خدمات

اٹل جی تین مرتبہ بھارت کے وزیر اعظم بنے—پہلی بار 1996 میں، پھر 1998 میں اور اس کے بعد 1999 سے 2004 تک۔ ان کے دورِ حکومت میں بھارت نے کئی تاریخی فیصلے کیے۔ پوکھران ایٹمی تجربات (1998):  بھارت نے دنیا کے سامنے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔لاہور بس یاترا: پاکستان کے ساتھ امن کی پہل کی۔ سڑک ترقیاتی منصوبے: ’گولڈن کوآڈری لیٹرل‘ جیسے منصوبوں کے ذریعے ملک بھر میں شاہراہوں کا مضبوط نیٹ ورک قائم ہوا۔سرکاری پالیسیاں: تعلیم، دیہی ترقی اور صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔

سیاست دان کے ساتھ شاعر اور خطیب

واجپائی جی صرف ایک سیاست دان ہی نہیں بلکہ ایک حساس شاعر بھی تھے۔ ان کی شاعری میں جدوجہد، امید اور حب الوطنی کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔

اپوزیشن اور عوام میں احترام

ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اپوزیشن کو بھی ساتھ لے کر چلتے تھے۔ پارلیمنٹ میں ان کی تقاریر کبھی طنز سے بھرپور ہوتیں تو کبھی گہری حساسیت کی عکاس۔ اسی وجہ سے انہیں ’عوامی لیڈر‘ کہا جاتا تھا۔

بھارت رتن سے اعزاز

اٹل بہاری واجپائی کو 2015 میں ملک کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز ’بھارت رتن‘ سے نوازا گیا۔ ان کی سالگرہ 25 دسمبر کو ہر سال ’سوشاسن دیوس‘ کے طور پر منائی جاتی ہے، جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سیاست کا اصل مقصد عوامی خدمت اور شفاف حکمرانی ہے۔

انتقال کب ہوا؟

16 اگست 2018 کو دہلی کے ایمس اسپتال میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی رحلت پر پورا ملک سوگوار ہو گیا اور لاکھوں افراد نے انہیں آخری وداع دی۔ وہ محض ایک لیڈر نہیں بلکہ ایک فکر، ایک نظریہ اور ایک تحریک تھے۔ اٹل بہاری واجپائی کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سیاست میں بھی حساسیت، شاعری اور مکالمے کی بڑی طاقت ہوتی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ حقیقی لیڈر وہی ہوتا ہے جو عوام کا اعتماد جیت کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read