آج انڈین جرنلزم فیسٹیول کا 17 واں ایڈیشن مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں شروع ہوا، جس میں بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اور چیف ایڈیٹر اُپیندر رائے اور بی جے پی کے ترجمان ڈاکٹر سدھانشو ترویدی نے شرکت کی۔ جرنلزم فیسٹیول میں اپنی گہری اور جذباتی تقریر میں سدھانشو ترویدی نے ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI) اور انسانی شعور کے درمیان گہرے روابط پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اپنی تقریر کے آغاز میں سدھانشو ترویدی نے 12 اپریل کی تاریخی اہمیت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ 12 اپریل 1961 کو یوری گاگارین نے پہلی بار خلا میں جا کر تاریخ رقم کی تھی۔ انھوں نے اس دن کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں سب سے بڑی چھلانگ قرار دیتے ہوئے اسے اے آئی جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ آج ہم جس اے آئی کی بات کر رہے ہیں وہ مسائل پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے مسائل کا حل بھی بن سکتا ہے۔ لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ اے آئی سے سب سے بڑا سبق ہمیں یہ مل سکتا ہے کہ ذہانت بھی مشینی ہو سکتی ہے، لہٰذا انسان کو اپنی ذہانت پر گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اصل طاقت تو ’’من‘‘ میں ہوتی ہے، جو انسانی دماغ کو تحریک دیتا ہے۔
مصنوعی ذہانت، ذہانت تو ہے لیکن ’’من‘‘ کا متبادل نہیں
سدھانشو ترویدی نے ہندوستانی فلسفہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے یہاں چار باطنی اعضا کی بات کی گئی ہے، یعنی من، دماغ، ضمیر اور انا۔ انھوں نے کہا دماغ صرف عملی طور پر کام کر سکتا ہے، لیکن ادراک تو ’’من‘‘ کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ یہی وہ سطح ہے جہاں اے آئی کی حد ختم ہو جاتی ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت اگرچہ بہت کچھ کر سکتی ہے، لیکن اس میں احساس کا مادہ نہیں ہوتا، لہٰذا یہ بہت سے کام ضرور کر سکتی ہے لیکن ’’زمین کی خاموش اذیتوں‘‘ کا ادراک نہیں کر سکتی۔
شاعری کے ذریعے حساسیت کو بیدار کیا جا سکتا ہے
ایک شاعرانہ نوٹ پر اپنی تقریر ختم کرتے ہوئے ترویدی نے ایک کویتا پیش کی کہ:
آکاش ناپنے والو، تم سچ سچ کہہ دو
کیا تم زمین کی خاموش اذیتوں کو ناپ سکے کو؟‘‘
ان کا کہنا تھا کہ جب انسان چاند پر پہنچ گیا تھا تب بھی زمین پر اس کا درد کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا۔ آج بھی اے آئی کے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ کیا اے آئی انسانی درد، بھوک، پیاس اور جذبات کو سمجھ سکے گا؟
سدھانشو ترویدی: ماہر سیاست دان، بہترین خطیب
واضح رہے کہ ڈاکٹر سدھانشو ترویدی بھارتیہ جنتا پارٹی کے اہم ترجمانوں میں سے ایک ہیں۔ وہ ہندوستانی ثقافت، سائنس اور سیاست کے پیچیدہ مسائل پر اپنے سنجیدہ اور متوازن خیالات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی ہے اور ٹیکنالوجی سے متعلقہ مضامین کی گہری سمجھ ہے۔ ترویدی، جو عوامی تقریر کے فن میں مہارت رکھتے ہیں، پیچیدہ تکنیکی تصورات کو جذباتی اور فلسفیانہ نقطہ نظر سے جوڑ کر پیش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اُپیندر رائے کی موجودگی نے فیسٹیول کے وقار میں اضافہ کیا
پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اُپیندر رائے کی موجودگی نے پروگرام کے وقار کو مزید بڑھا دیا۔ اے آئی پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اُپیندر رائے نے کہا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی ایک دو دھاری تلوار کی طرح ہے، یعنی جہاں اس نے کئی خدشات کو جنم دیا ہے، وہیں اس کے امکانات بھی نہایت روشن اور کارآمد ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



