Bharat Express DD Free Dish

AI- A Life Partner or an Enemy of Creativity: اے آئی زندگی کا ساتھی یا تخلیقی صلاحیتوں کا دشمن

تخلیقی دنیا میں بھی اے آئی نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پہلے مصور، ادیب اور موسیقار اپنی تخیل سے تخلیق کرتے تھے، جبکہ اب چند ہدایات پر ڈیجیٹل تصاویر، کہانیاں اور موسیقی تیار ہو جاتی ہیں۔

تحریر :رجنیش کپور
آج کے دور میں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) انسانی زندگی کا لازمی حصہ بنتی جا رہی ہے۔ اسمارٹ فون سے لے کر اسمارٹ گھروں تک، ہر شعبے میں اے آئی کی موجودگی واضح نظر آتی ہے۔ نئی دہلی میں حال ہی میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی اے آئی امپیکٹ سمٹ میں بھی عالمی رہنماؤں اور ماہرین نے اسی موضوع پر غور کیا کہ اے آئی انسانی مستقبل کو کس سمت لے جا رہی ہے۔ تاہم ایک بنیادی سوال مسلسل زیر بحث ہے کہ کیا سہولتوں کے بدلے ہم اپنی آزادیِ فکر اور تخلیقی صلاحیت کھوتے جا رہے ہیں؟

اے آئی نے انسانی زندگی کو بلاشبہ آسان بنایا ہے، مگر اس کے ساتھ انحصار بھی بڑھا دیا ہے۔ آج صبح آنکھ کھلتے ہی ڈیجیٹل اسسٹنٹس موسم، ٹریفک اور خبریں بتا دیتے ہیں۔ دفاتر میں ای میل لکھنے سے لے کر ڈیٹا تجزیے تک، اے آئی ٹولز لمحوں میں کام مکمل کر دیتے ہیں۔ ڈیجیٹل انڈیا مہم کے بعد کروڑوں انٹرنیٹ صارفین اے آئی پر مبنی ایپس جیسے آن لائن ٹیکسی، فوڈ ڈیلیوری اور فوری خریداری پلیٹ فارمز استعمال کر رہے ہیں، جس سے زندگی بے حد سہل ہو گئی ہے۔ لیکن یہی سہولت انسان کو ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ منحصر بھی بنا رہی ہے۔ بجلی یا انٹرنیٹ بند ہوتے ہی روزمرہ نظام متاثر ہو جاتا ہے اور لوگ بے بسی محسوس کرتے ہیں۔

تعلیم کے میدان میں اس انحصار کے اثرات سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔ طلبہ اب خود تحقیق کرنے کے بجائے اے آئی سے تیار مواد استعمال کرنے لگے ہیں۔ کوچنگ اداروں سے لے کر اعلیٰ تعلیمی مراکز تک ہوم ورک آسان ضرور ہوا ہے، مگر سمجھ کی گہرائی کم ہوتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اے آئی سے تیار مواد نے تنقیدی سوچ میں کمی پیدا کی ہے اور نئی نسل مسائل حل کرنے کے بجائے صرف درست سوال پوچھنے کی مہارت سیکھ رہی ہے۔

تخلیقی دنیا میں بھی اے آئی نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پہلے مصور، ادیب اور موسیقار اپنی تخیل سے تخلیق کرتے تھے، جبکہ اب چند ہدایات پر ڈیجیٹل تصاویر، کہانیاں اور موسیقی تیار ہو جاتی ہیں۔ بظاہر یہ فن محسوس ہوتا ہے، مگر ناقدین کے مطابق اس میں انسانی احساس اور ذاتی تجربے کی روح موجود نہیں ہوتی۔ اے آئی بنیادی طور پر سابقہ ڈیٹا کی بنیاد پر نئے نمونے تیار کرتی ہے، جس سے جدت کی بجائے تکرار کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

اے آئی کی ایک بڑی خصوصیت اس کی ’’کمال پسندی‘‘ ہے۔ یہ تقریباً غلطی سے پاک نتائج دیتی ہے، جس کے باعث انسانی کوشش کمزور محسوس ہونے لگتی ہے۔ حالانکہ تخلیقی عمل غلطیوں، تجربات اور مسلسل جدوجہد سے نکھرتا ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ترقی پذیر ممالک میں مکمل انحصار بڑھ گیا تو جدت اور اختراع کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اے آئی اخلاقی چیلنجز بھی پیدا کر رہی ہے۔ ڈیپ فیک ویڈیوز اور غلط معلومات سیاسی اور سماجی سطح پر خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے ذمہ دارانہ استعمال پر زور دیا جا رہا ہے، مگر انحصار کم کرنے کے عملی اقدامات ابھی محدود دکھائی دیتے ہیں۔

آج گھروں میں بھی اس تبدیلی کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ بچے بازار جانے کے بجائے ہر چیز آن لائن منگوا لیتے ہیں۔ خریداری، حساب کتاب اور عملی تجربات جو کبھی سیکھنے کا حصہ تھے، اب کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس تبدیلی نے سہولت تو دی ہے مگر زندگی کے عملی ہنر متاثر کیے ہیں۔

اس صورتحال کا حل توازن میں پوشیدہ ہے۔ تعلیمی اداروں میں اے آئی کے ساتھ ساتھ ’’اے آئی سے پاک‘‘ اوقات متعارف کرائے جائیں تاکہ طلبہ خود تخلیق کریں۔ حکومتوں کو شفاف پالیسیوں اور اے آئی خواندگی پروگرام شروع کرنے چاہئیں۔ تخلیق کاروں کی حوصلہ افزائی اور ڈیجیٹل ڈیٹاکس جیسی عادات بھی ضروری ہیں۔

مختصراً، اے آئی انسانی زندگی کا دشمن نہیں بلکہ ایک طاقتور ذریعہ ہے، مگر اس پر مکمل انحصار تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اصل چیلنج یہی ہے کہ انسان ٹیکنالوجی کا مالک رہے، غلام نہ بنے۔ تخلیقی سوچ انسان کی بنیادی پہچان ہے اور اسے محفوظ رکھنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔

مصنف دہلی میں قائم کلچکر نیوز بیورو کے ایڈیٹر ہیں



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔