سرکاری ذرائع نے پیر کو بتایا کہ ہانگ کانگ اور سنگاپور میں COVID-19 کے معاملات میں تازہ اضافے کے درمیان ہندوستان صحت عامہ کی گھریلو صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ واضح رہے کہ کچھ ایشیائی ممالک بشمول چین اور تھائی لینڈ نے پچھلے چند ہفتوں میں کووڈ کے کیسز میں تیزی سے اضافہ کی اطلاع دی ہے۔ اس دوران مرکزی وزارت صحت نے ہندوستان میں موجودہ COVID-19 کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ایک جائزہ میٹنگ کی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ’’مرکزی وزارت صحت صورت حال کی قریب سے نگرانی کرنے کے لیے چوکس اور متحرک رہتی ہے اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ صحت عامہ کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’میٹنگ نے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ہندوستان میں موجودہ COVID-19 کی صورت حال قابو میں ہے۔‘‘
رپورٹ کے مطابق 19 مئی تک ہندوستان میں فعال COVID-19 کیسز کی تعداد 257 ہے، جو ملک کی بڑی آبادی کو دیکھتے ہوئے بہت کم تعداد ہے۔ ان میں سے تقریباً تمام متاثرین میں ہلکی پھلکی علامتیں ہیں اور انھیں ہسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لہٰذا تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔
وزارت صحت کی جائزہ میٹنگ، جو ڈائرکٹر جنرل آف ہیلتھ سروسز (DGHS) کی صدارت میں ہوئی، اس میں نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (NCDC)، ایمرجنسی میڈیکل ریلیف (EMR) ڈویژن، ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل، انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (ICMR) اور مرکزی حکومت کے اسپتالوں کے ماہرین نے شرکت کی۔ حکام نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق سنگاپور اور ہانگ کانگ میں رپورٹ ہونے والے کیسز بھی ’’زیادہ تر ہلکے ہیں اور غیر معمولی شدت یا اموات کی خبریں نہیں ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ ایشیائی ممالک میں COVID-19 کیسز میں اضافے نے تشویش پیدا کردی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے مئی 2023 میں COVID-19 کے خاتمے کا اعلان کر دیا تھا، جس نے عالمی سطح پر تباہی مچا دی تھی، لیکن اب تقریباً دو سال بعد پھر سے چند ممالک میں کیسز میں اضافہ COVID-19 سامنے آیا ہے۔ تاہم راحت کی بات یہ ہے کہ تمام کیسز میں متاثرین کی حالت قابو میں ہے اور انھیں اسپتالوں میں داخل کرانے کی ضرورت نہیں پڑی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



