عالمی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اپنے نئے آئی فون 17 سیریز کے تمام ماڈلز، بشمول پریمیم پرو ورژنز، کی مینوفیکچرنگ بھارت میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق یہ کام پانچ مقامی فیکٹریوں میں ہوگا، جن میں دو نئی یونٹس نے حال ہی میں پیداوار شروع کی ہے۔ یہ پہلا موقع ہوگا کہ ایپل اپنی کسی بھی سیریز کے تمام ماڈلز کی تیاری بھارت میں آغاز سے کرے گا۔
چین پر انحصار کم کرنے کا اقدام
ایپل کا یہ قدم امریکا کو بھیجے جانے والے آئی فونز کی ترسیل کے لیے چین پر انحصار کم کرنے اور ممکنہ ٹیریف خطرات سے بچاؤ کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حالیہ برسوں میں کمپنی نے امریکی مارکیٹ کے لیے آئی فون کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ چین سے بھارت منتقل کیا ہے۔
ٹیکنالوجی پارٹنرز کا اہم کردار
توسیع منصوبے میں ٹاٹا گروپ کا تامل ناڈو کے ہوسور میں قائم پلانٹ اور فاکسکون کا بنگلورو ایئرپورٹ کے قریب واقع ہب مرکزی کردار ادا کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ٹاٹا اگلے دو برس میں بھارت میں آئی فون کی نصف پیداوار سنبھال سکتا ہے۔
برآمدات میں نمایاں اضافہ
اپریل سے جولائی 2025 کے دوران بھارت سے 7.5 ارب ڈالر مالیت کے آئی فون برآمد ہوئے، جبکہ گزشتہ مالی سال کی کل برآمدات 17 ارب ڈالر رہیں۔ امریکا بھارت سے ایپل کا سب سے بڑا برآمدی بازار بن گیا ہے، جو 2024 کی پہلی ششماہی میں 53 فیصد سے بڑھ کر جون 2025 میں 78 فیصد تک پہنچ گیا۔
امریکی تجارتی دباؤ اور ایپل کی حکمت عملی
امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے چینی مصنوعات پر سخت ٹیریف کے دباؤ کے پیشِ نظر ایپل اپنی پیداوار کا دائرہ چین سے باہر پھیلا رہا ہے۔ اگرچہ اسمارٹ فونز اب تک مکمل ٹیریف سے محفوظ رہے ہیں، تاہم ایپل نے موجودہ مدت میں 1.1 ارب ڈالر کے ممکنہ نقصان کا اندازہ لگایا ہے۔ امریکی صدر نے حال ہی میں کہا کہ ’’اگر ایپل امریکیوں کے لیے آئی فون بنانا چاہتا ہے تو اسے امریکا میں بنانے چاہییں، نہ کہ چین یا بھارت میں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



