پٹرول اور ڈیزل کی مسلسل بڑھتی قیمتوں سے پریشان عوام تیزی سے متبادل ایندھن (Alternative Fuel) کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ ماحول دوست اور نسبتاً کم خرچ سمجھے جانے والے E85 ایتھنول فیول کو بھی اسی وجہ سے مقبولیت حاصل ہو رہی ہے، لیکن سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک حیران کن ویڈیو نے اس ایندھن کو نئی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔
وائرل ویڈیو میں کیا نظر آیا؟
وائرل ویڈیو میں ایک شخص اپنی فلیکس فیول کار میں E85 ایتھنول بھرانے کے لیے پٹرول پمپ پہنچتا ہے۔ تاہم جیسے ہی وہ فیول ٹینک کا ڈھکن کھولتا ہے، وہ حیران رہ جاتا ہے۔
ٹنکی کے منہ کے اردگرد بے شمار چیونٹیاں جمع تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے چیونٹیوں کا پورا جھنڈ وہاں ڈیرہ ڈال چکا ہو۔ سوشل میڈیا صارفین نے مذاقاً کہنا شروع کر دیا کہ یہ گاڑی کا فیول ٹینک ہے یا پھر گنے کے رس اور چاشنی کا کوئی ذخیرہ!
آخر چیونٹیاں کیوں جمع ہوئیں؟
اس کی وجہ E85 فیول کی ساخت کو بتایا جا رہا ہے۔ E85 میں تقریباً 85 فیصد ایتھنول اور 15 فیصد پٹرول شامل ہوتا ہے۔ ایتھنول عموماً گنے، مکئی اور دیگر زرعی فصلوں سے تیار کیا جاتا ہے، جس کے باعث اس میں ہلکی سی مخصوص خوشبو پائی جا سکتی ہے۔کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فیول کی معمولی مقدار ٹینکی کے آس پاس گر جائے یا بخارات خارج ہوں تو وہ بعض کیڑوں، خصوصاً چیونٹیوں کو اپنی جانب متوجہ کر سکتے ہیں۔ تاہم اس بات کا کوئی مضبوط سائنسی ثبوت موجود نہیں کہ صرف E85 کی موجودگی ہی لاکھوں چیونٹیوں کے جمع ہونے کی وجہ بنتی ہے۔
سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے
ویڈیو وائرل ہوتے ہی صارفین نے دلچسپ تبصروں کی بھرمار کر دی۔ ایک صارف نے لکھا:”بھائی، یہ فیول نہیں، لگتا ہے گاڑی میں گنے کا رس بھر دیا گیا ہے!”ایک اور صارف نے مذاق کرتے ہوئے کہا:’’رات بھر ٹینکی فل چھوڑ دو، صبح تک چیونٹیاں 85 فیصد ایتھنول پی جائیں گی اور صرف 15 فیصد پٹرول بچے گا۔‘‘
کیا واقعی ایتھنول مستقبل کا مسئلہ بن سکتا ہے؟
ماہرین کے مطابق فی الحال اس ویڈیو کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہوگا کہ ایتھنول ایندھن گاڑیوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ البتہ اس واقعے نے ایک اہم سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے کہ اگر ایتھنول کی بو یا رساؤ کیڑوں کو متوجہ کرتا ہے تو مستقبل میں گاڑی ساز کمپنیوں کو اس حوالے سے اضافی حفاظتی اقدامات پر غور کرنا پڑ سکتا ہے۔فی الحال یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تفریح اور تجسس کا موضوع بنی ہوئی ہے، لیکن اس نے ایتھنول فیول سے متعلق کئی تکنیکی سوالات کو بھی جنم دے دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
