نئی دہلی: 24 جولائی 2026 کو منعقدہ مسلم رہنماؤں اوردانشوروں کے قومی اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے بعد آج 51 رکنی قومی نگرانی کمیٹی کا اعلان کیا گیا۔ اس کمیٹی میں سماجی، مذہبی، قانونی، سیاسی اور سول سوسائٹی سے وابستہ اہم شخصیات شامل ہیں۔ کمیٹی کا قیام بھارتی مسلمانوں کے حقوق سے متعلق مسائل پر آئینی، قانونی اورسیاسی راستے اختیارکرنے، آئین میں حاصل حقوق، شہری آزادیوں، سیاسی نمائندگی اوربرادری سے متعلق دیگرمعاملات پرمشترکہ طورپرکارروائی کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے۔ کمیٹی کے اعلان کے لیے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی، جس سے کمیٹی کے متعدد اہم اراکین نے خطاب کیا۔ کمیٹی میں قانون، عوامی زندگی، سیاست، سماجی خدمت، مذہبی اداروں اورشہری حقوق کے شعبوں میں کام کرنے والی شخصیات شامل ہیں۔ کمیٹی کا مقصد جمہوری اورآئینی طریقوں سے ان مسائل کواٹھانا ہے۔
قومی نگرانی کمیٹی کے 24ویں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جن علاقوں میں بحران اورسنگین چیلنجزدرپیش ہیں، وہاں دورے کیے جائیں گے۔ اس کا مقصد مسلم برادری کے درمیان اعتماد کوفروغ دینا اورمقامی افراد اورتنظیموں سے براہِ راست بات چیت کرنا ہے۔ پہلا دورہ اتراکھنڈ کا کرنے کا فیصلہ کیا گیا، کیونکہ یہ دہلی کے قریب ہے اور ریاست میں متعدد مسائل سامنے آرہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک وفد نے دہرہ دون کا دورہ کیا اوراتراکھنڈ کی سول سوسائٹی کے نمائندوں اورمسلم قیادت کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں۔ پہلی ملاقات اتراکھنڈ کے ممتازسول سوسائٹی ارکان کے ساتھ ہوئی، جس میں ریاست کی موجودہ صورتِ حال اورمعاشرے کے مختلف طبقات سے متعلق مسائل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ کانگریس کے سینئر رہنما گرودیپ سپل بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔ دوسری ملاقات اتراکھنڈ کی مسلم برادری کے نمائندوں کے ساتھ ہوئی، جس میں سیاسی، سماجی اورمذہبی قیادت سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ اجلاس میں برادری کودرپیش خدشات اورریاست کی مجموعی صورتِ حال پرگفتگوکی گئی۔ پریس کانفرنس میں کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ بھارتی مسلمانوں کے حقوق اور مفادات سے متعلق مسائل کو اٹھانے کے لیے سرکاری اداروں اورجمہوری عمل کے ساتھ مل کرکام کرنا ضروری ہے۔
سلمان خورشید نے کہا- ”اس تحریک نے سب کو ایک ساتھ لایا ہے۔ یہ ہندوستان کے مسلمانوں کی جانب سے ایک پہل ہے۔ ہم یہاں کسی سے بھیک مانگنے نہیں آئے ہیں، بلکہ یہ بتانے آئے ہیں کہ اس ملک کے ہرشہری کے اپنے حقوق ہیں۔ ملک میں ہماری مختلف نوعیت کی گوناگوں رنگا رنگی کے باوجود ہم سب کے حقوق برابر ہیں۔ ہم تمام لوگوں کو اپنے ساتھ جڑنے اور شانہ بشانہ کام کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ہم ہندوستان میں جاری ایک بڑے مسئلے میں اپنا کردارادا کرنا چاہتے ہیں۔“ مولانا عطاء الرحمن مدنی قاسمی نے کہا- ”اس وقت یہ کارواں معاشرے کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس کی ضرورت صرف شہروں میں ہی نہیں بلکہ گاؤں اور دیہی علاقوں میں بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ یہ کارواں مشرق سے مغرب تک جائے، ملک کے مختلف حصوں میں لوگوں تک پہنچے اوران لوگوں کوسہارا دے، جوخود کوحاشیے پراورکمزورمحسوس کر رہے ہیں۔“
محمد ادیب نے کہا- ”میں نے کچھ صحافیوں کو یہ سوال کرتے سنا ہے کہ کیا یہ تحریک پرسنل لا بورڈ یا جماعت کے خلاف ہے؟ شریعت سے متعلق معاملات میں ہم پرسنل لا بورڈ کے تحت ہیں اور اس کی رہنمائی پر عمل کرتے ہیں۔ ہمارا کام سیاسی دائرے میں ہے۔ یہ تنظیم کسی کے خلاف نہیں ہے، بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلنے اور مل کر کام کرنے کی خواہاں ہے۔“ ندیم خان نے صورتِ حال کی سنگینی پر زور دیتے ہوئے کہا-”پورے ملک میں ہم انہدام، بے دخلی، نقل مکانی اور مذہبی مقامات پر حملے دیکھ رہے ہیں، جن سے مسلمان بالخصوص متاثر ہو رہے ہیں۔ آسام میں ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے ہیں، جبکہ جاری ’پش بیک‘ کارروائی نے یہ سنگین تشویش پیدا کر دی ہے کہ بھارتی شہریوں کو بھی غلط طور پر حراست میں لیا جا رہا ہے یا ملک سے باہردھکیلا جا رہا ہے۔ گجرات کے کچھ علاقوں، خصوصاً کچھ کے علاقے اورراجستھان کے بعض حصوں میں درگاہوں اورمساجد کوبھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان واقعات کا پیمانہ ایک بڑے ادارہ جاتی چیلنج کی جانب اشارہ کرتا ہے، جس کے لیے مشترکہ اورمؤثرانداز میں جواب دینے کی ضرورت ہے۔ کرنولہ مہاپنچایت، ایس آئی آراور فارم-7 سمیت قانونی معاملات میں ہماری مداخلت کے ساتھ ساتھ ہماری ٹیمیں زمینی سطح پرمسلسل کام کررہی ہیں، تشدد کے واقعات کودستاویزی شکل دے رہی ہیں اورمتاثرہ برادریوں سے بات چیت کررہی ہیں۔“
سید سعادت اللہ حسینی نے کہا- ”یہ ایک بڑی مہم اورایک اہم لمحے کے آغازکی علامت ہے۔ یہ ایسی کمیٹی ہے جس میں پورے ملک کے مسلمانوں کی نمائندگی موجود ہے اوراس میں رہنماؤں سے لے کر نوجوانوں تک سب کوشامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی حالات پرمسلسل نظررکھے گی اورضرورت پڑنے پرمداخلت بھی کرے گی۔ اس کا کام صرف مسلم برادری تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے ملک کے لیے ہوگا۔“ جسٹس اقبال احمد انصاری نے آسام کی صورتِ حال پرکہا- ’’آسام میں ہندو مسلم کشیدگی زبان کے مسئلے کے مقابلے میں کم ہے۔ وہاں بے دخلی کی کارروائی بنگالی مسلمانوں تک محدود ہے۔ آسامی اور بنگالی مسلمانوں کے درمیان ایک فاصلہ ہے۔ ہم دونوں فریقوں کے ساتھ بلا امتیازاور برابری کی بنیاد پرکھڑے ہیں۔‘‘ مولانا محسن علی تقوی نے کہا ’’آج ملک میں جس طرح کے حالات ہیں، جس طرح لوگوں کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے اورملک کے سیکولر ڈھانچے کوکمزورکیا جا رہا ہے، ایسے میں اس کوشش کوکامیاب بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔‘‘ فُضیل احمد ایوبی نے کہا- ’’ہمارے مذہبی رہنماؤں، سیاسی نمائندوں، سول سوسائٹی تنظیموں اور وکلا، سب کو ایک چھتری تلے مل کر کام کرنا چاہیے۔ اس وقت ہم جس طرح کے چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں، اسے دیکھتے ہوئے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ سب ایک ساتھ آئیں اور ایک بینر تلے مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کریں۔
قاسم رسول الیاس نے کہا- ’’اس وقت بھارتی مسلمان جس صورتِ حال سے گزررہے ہیں، اس سے محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو خصوصی طورپرنشانہ بنایا جا رہا ہے اورانہیں گھیرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایس آئی آر، این آرسی کی ایک اورشکل نظرآتی ہے، جس کے ذریعے مسلم ناموں کو ووٹرلسٹ سے خارج کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی کے زیرِ اقتدارریاستوں میں یوسی سی نافذ کیا جا رہا ہے۔ لنچنگ تو پہلے سے جاری تھی، لیکن اب مذہبی مدارس اور اداروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گزشتہ 78 برسوں میں ’وندے ماترم‘ کی اہمیت کو اس طرح اجاگر نہیں کیا گیا، لیکن اب اسے صرف لوگوں کو پریشان کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی، سب کو ایک ساتھ آنا ہوگا۔ سب کی شمولیت ضروری ہے۔ ہم بھی سب کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘ پروگرام کی نظامت آئی ایم سی آرکے سیکریٹری اعظم بیگ نے کی۔ قومی نگرانی کمیٹی کا قیام 24 جولائی کو منعقدہ قومی اجلاس میں کیے گئے اجتماعی فیصلے کے بعد عمل میں آیا ہے۔ اجلاس میں مسلم رہنماؤں اوردانشوروں نے آئینی حقوق اورقانونی تحفظ سے متعلق مسائل پرمسلسل اورمنظم اندازمیں کام کرنے کی ضرورت پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔ کمیٹی ان مسائل کی نشاندہی کرے گی، جن میں مداخلت کی ضرورت ہے، دستیاب آئینی اورقانونی راستوں کا جائزہ لے گی، متعلقہ اداروں سے بات چیت کرے گی اور ضرورت کے مطابق جمہوری اورسیاسی راستے اختیار کرے گی۔ پریس ریلیز کے ساتھ 51 رکنی کمیٹی کے ارکان کی فہرست بھی جاری کی گئی ہے۔ یہ کمیٹی بھارتی مسلمانوں کے حقوق سے متعلق مسائل پرآئینی، قانونی اور سیاسی راستوں کے ذریعے کام کرے گی۔ کمیٹی کے 51 ارکان کے علاوہ 10 رکنی سیکریٹریٹ بھی ہوگا، جو ان معاملات کی نگرانی اور رابطہ کاری میں معاونت کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


