نئی دہلی۔ ملک کی قومی سلامتی سے متعلق اہم امور پر آج نئی دہلی میں اعلیٰ سطحی غور و خوض شروع ہو رہا ہے۔ امور داخلہ اور باہمی تعاون کے مرکزی وزیر امت شاہ کی صدارت میں دو روزہ نویں قومی سلامتی حکمتِ عملی کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے۔ اس اہم کانفرنس میں ملک کی داخلی اور خارجی سلامتی سے متعلق مختلف چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا اور ان سے نمٹنے کے لیے نئی حکمتِ عملی تیار کی جائے گی۔
850 سے زائد سینئر افسران ہوں گے شریک
اس اہم اجلاس میں ملک بھر سے 850 سے زائد سینئر پولیس اور سلامتی افسران شرکت کریں گے۔ خفیہ اداروں، نیم فوجی دستوں اور مختلف ریاستوں کے اعلیٰ پولیس افسران اس کانفرنس میں شامل ہوں گے۔ اجلاس ہائبرڈ طریقے سے منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں افسران بالمشافہ اور آن لائن دونوں ذرائع سے شرکت کریں گے۔ کانفرنس کا مقصد قومی سلامتی سے متعلق مختلف اداروں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنا اور بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی تیار کرنا ہے۔
تین اہم خطرات پر خصوصی توجہ
اس بار قومی سلامتی حکمتِ عملی کانفرنس میں تین اہم اور حساس معاملات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ ان میں آبادی میں تبدیلی، پاکستان اور بنگلہ دیش سے متصل سرحدوں سے متعلق سکیورٹی چیلنجز اور داخلی سلامتی کے مسائل شامل ہیں۔ ملک کے سرحدی اور دیگر حساس علاقوں میں آبادی کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔ اس سلسلے میں خفیہ اداروں کی رپورٹوں کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کے ممکنہ سلامتی اثرات پر غور کیا جائے گا۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کی سرحدوں پر توجہ
پاکستان اور بنگلہ دیش سے متصل سرحدوں پر دراندازی، اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے خطرات بھی اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل ہوں گے۔ بنگلہ دیش کی موجودہ صورتحال کے باعث پیدا ہونے والے ممکنہ سکیورٹی چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا اور ان سے نمٹنے کے لیے مؤثر لائحہ عمل تیار کرنے پر زور دیا جائے گا۔
مظاہروں اور نئے سائبر خطرات پر بھی بحث
داخلی سلامتی کے محاذ پر اچانک ہونے والے پرتشدد مظاہروں، سماج دشمن عناصر کے نیٹ ورک اور تیزی سے ابھرنے والے سائبر و دہشت گردی کے خطرات پر بھی غور کیا جائے گا۔ سلامتی ادارے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید طریقہ کار اور مربوط کارروائی کی حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کریں گے۔
قومی سلامتی پر سخت مؤقف کا پیغام
مرکزی حکومت کی جانب سے قومی سلامتی کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرنے کا پیغام اس کانفرنس کے ذریعے بھی دیا جائے گا۔ امت شاہ کی صدارت میں ہونے والے اس دو روزہ اجلاس میں سلامتی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور زمینی سطح پر خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا جائے گا۔ کانفرنس کے اختتام پر طے ہونے والی حکمتِ عملی اور فیصلوں پر سب کی نظریں ہوں گی، کیونکہ بدلتے ہوئے داخلی اور خارجی سلامتی کے چیلنجز کے درمیان مرکزی حکومت مختلف اداروں کو مزید مربوط اور مؤثر انداز میں کام کرنے کے لیے تیار کرنا چاہتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


