تمل ناڈو کے مہابلی پورم میں جمعرات کو جنوبی علاقائی کونسل کا 31واں اجلاس منعقد ہوا۔ مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے اجلاس کی صدارت کی۔ میٹنگ میں جنوبی بھارت کی ترقی، ریاستوں کے درمیان پانی کی تقسیم، خواتین اور بچوں کی حفاظت، تعلیم، غذائیت اور منشیات سے نجات سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ جنوبی بھارت ملک کے ترقیاتی سفر میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادب اور تعلیم سے لے کر تحقیق، خلائی شعبے، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، صنعت اور زراعت تک جنوبی ریاستوں نے مسلسل ملک کی ترقی میں اپنا تعاون دیا ہے۔
شاہ کے مطابق آئی ٹی، آٹوموبائل، فارما اور بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں میں جنوبی بھارت کی مضبوط موجودگی کی وجہ سے یہاں بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری بھی آئی ہے۔انہوں نے جنوبی بھارت کی ترقی کے پیچھے تین اہم وجوہات بتائیں، جن میں اعلیٰ شرح خواندگی، تربیت یافتہ انسانی وسائل اور سمندر سے متعلق تکنیکی مہارت شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان خصوصیات نے جنوبی بھارت کو ملک کی ترقی کا ایک بڑا انجن بنا دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اختراع اور آمدنی جمع کرنے کے معاملے میں جنوبی ریاستوں نے کئی ایسی اچھی نظام کاری تیار کی ہے، جن سے ملک کے دیگر حصے بھی سبق حاصل کر سکتے ہیں۔
اگلے چند برسوں میں تیز رفتار ترقی کی ضرورت
امت شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک کے سامنے تیز رفتار ترقی کا ہدف رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران جو کام مکمل نہیں ہو سکے، انہیں آنے والے پانچ سے سات برسوں میں پورا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے کسی ایک ریاست کی کوشش کافی نہیں ہوگی بلکہ ہر ریاست کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ شاہ نے علاقائی کونسلوں کے کام کاج میں آنے والی تبدیلیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2014 کے بعد ان کونسلوں کو محض رسمی اجلاس تک محدود رکھنے کے بجائے مسائل کے حل کے مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر ترقی دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
ان کے مطابق 2004 سے 2014 کے درمیان علاقائی کونسلوں کے اوسطاً تقریباً ڈھائی اجلاس ہر سال ہوتے تھے، جبکہ اب یہ تعداد بڑھ کر تقریباً چھ اجلاس فی سال ہو گئی ہے۔ 2014 کے بعد سے علاقائی کونسلوں کے تقریباً 70 اجلاس ہو چکے ہیں، جن میں اٹھائے گئے 1,869 مسائل میں سے 1,445 کو حل کیا جا چکا ہے۔ شاہ نے کہا کہ ان میں کئی ایسے معاملات بھی شامل تھے، جو کئی دہائیوں سے زیر التوا تھے۔
پانی کے مسئلے پر ریاستوں کو مل کر کام کرنے کا مشورہ
اجلاس میں جنوبی بھارت کی ریاستوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا مسئلہ بھی خاص طور پر زیر بحث رہا۔ امت شاہ نے کہا کہ جنوبی ریاستوں کی معیشت اور عوام کی زندگی کا پانی سے براہ راست تعلق ہے۔ زراعت ہو، صنعت، ماحولیات یا عوام کی صحت، ہر شعبے کے لیے پانی ضروری ہے۔ انہوں نے ریاستوں سے اپیل کی کہ اپنے مفادات کا تحفظ کرنا فطری بات ہے، لیکن اگر کسی تنازع کی وجہ سے پانی طویل عرصے تک استعمال ہی نہ ہو اور دریا میں بہتا رہے تو اس سے کسی ریاست کا حقیقی مفاد بھی محفوظ نہیں ہوتا۔ شاہ نے دریاؤں کو آپس میں جوڑنے کے امکان پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر برہم پتر سے لے کر کاویری اور گوداوری جیسی بڑی ندیوں کو آپس میں جوڑنے کی سمت میں کام آگے بڑھتا ہے تو طویل مدت میں ملک کو پانی کی قلت سے راحت مل سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نئے آبی راستے تیار ہونے سے نقل و حمل سستا ہو سکتا ہے، ایندھن کی بچت ہوگی اور ماحولیات پر بھی مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


