ہریانہ کے ضلع امبالہ سے ایک دل دہلا دینے والی خبر سامنے آئی ہے، جس نے پورے ملک کو غمزدہ کر دیا۔ ضلع کے دھنورا گاؤں میں 220 فٹ گہرے کھلے بورویل میں گرنے والے 4 سالہ معصوم نربھے (نرویر) کو بچانے کے لیے بھارتی فوج، این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف اور پنجاب سے آئی خصوصی ریسکیو ٹیموں نے مسلسل 21 گھنٹے تک آپریشن جاری رکھا، مگر تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔ بدھ کی علی الصبح تقریباً ساڑھے تین بجے بچے کو بورویل سے باہر نکالا گیا، لیکن اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے کے باوجود ڈاکٹروں نے مردہ قرار دے دیا۔
دادا کو کھانا دینے گیا تھا معصوم
یہ افسوسناک واقعہ منگل کی صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے پیش آیا، جب نربھے اپنے والد منجیت سنگھ کے ساتھ کھیت میں موجود اپنے دادا کرنائل سنگھ کو کھانا دینے گیا تھا۔ دادا کھانا کھا رہے تھے جبکہ بچہ قریب ہی کھیل رہا تھا۔ کھیلتے کھیلتے اس کی نظر 9 انچ چوڑے اور 220 فٹ گہرے کھلے بورویل پر پڑی۔ وہ اس میں مٹی ڈالنے لگا، لیکن اچانک اس کا پاؤں پھسل گیا اور وہ سیدھا بورویل میں جا گرا۔
21 گھنٹے تک جاری رہا ریسکیو آپریشن
حادثے کے فوراً بعد پولیس، ضلعی انتظامیہ، فوج، این ڈی آر ایف اور دیگر ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ بورویل میں کیمرے اتارے گئے، رسیاں اور خصوصی آلات استعمال کیے گئے، مگر زیادہ گہرائی اور آکسیجن کی کمی کے باعث بچے کو بروقت باہر نکالنا ممکن نہ ہو سکا۔
بدھ کی صبح تقریباً تین بجے بچے کو بڑی مشکل سے باہر نکالا گیا اور ایمبولینس کے ذریعے امبالہ کے سول اسپتال پہنچایا گیا، جہاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر رشی پال نے معائنے کے بعد اس کی موت کی تصدیق کر دی۔
21 گھنٹوں کی ریسکیو ٹائم لائن
صبح 6:30 بجے: نربھے والد کے ساتھ کھیت پہنچا۔
صبح 7:00 بجے: 220 فٹ گہرے بورویل میں گر گیا۔
صبح 7:30 بجے: ڈائل 112 پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔
صبح 8:00 بجے: پولیس، ایمبولینس اور طبی ٹیم موقع پر پہنچی۔
صبح 9:30 بجے: بھارتی فوج اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں پہنچیں۔
صبح 10:00 بجے: ریسکیو آپریشن شروع ہوا۔
11:30 بجے: بورویل میں انڈر واٹر کیمرہ اتارا گیا۔
دوپہر 12:00 بجے: بچے کا ہاتھ نظر آیا۔
12:15 بجے: خصوصی ہُک (کنڈی) بورویل میں اتاری گئی۔
دوپہر 1:00 بجے: بچے کو نکالنے کی سات کوششیں ناکام رہیں۔
1:30 بجے: بارش کے باعث ریسکیو میں مشکلات پیش آئیں۔
شام 4:30 بجے: ایلومینیم کے پائپ بورویل میں ڈالے گئے۔
شام 5:30 بجے: پانی کی سطح کم کرنے کے لیے قریبی ٹیوب ویل چلایا گیا۔
شام 7:30 بجے: فوج نے جائے حادثہ پر روشنی کا انتظام کیا۔
رات 8:00 بجے: ریسکیو آپریشن پنجاب کی خصوصی ٹیم کے حوالے کیا گیا۔
بدھ صبح 3:00 بجے: بچے کو بورویل سے نکالا گیا۔
صبح 4:00 بجے: اسپتال میں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی
حادثے کے بعد ہریانہ کے کابینہ وزیر انیل وج نے جائے وقوعہ کا دورہ کرکے متاثرہ خاندان سے تعزیت کی۔ دوسری جانب بچے کے چچا ہریندر سنگھ نے کھلا بورویل چھوڑنے کو سنگین غفلت قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ امبالہ کے ڈپٹی کمشنر اجے سنگھ تومر نے بھی واضح کیا کہ کھلا بورویل چھوڑنے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پوسٹ مارٹم کے بعد معصوم نربھے کی لاش اہل خانہ کے حوالے کر دی جائے گی، جبکہ یہ المناک واقعہ ایک بار پھر یہ سوال چھوڑ گیا ہے کہ آخر کب تک کھلے بورویل معصوم بچوں کی جانیں لیتے رہیں گے؟
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


