اتر پردیش کانگریس صدر اجے رائے۔
وارانسی: وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ نازیبا تبصرے کے معاملے میں اتر پردیش کانگریس صدر اجے رائے کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ وارانسی کے چوک تھانے میں ان کے خلاف دو الگ الگ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ یہ مقدمات خاتون تاجر رہنما سنیتا سونی اور آرین پانڈیا کی شکایت پر درج کیے گئے۔ اس سے قبل اتر پردیش کے ضلع مہوبہ میں بھی اجے رائے کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔
بی جے پی کارکنوں کا احتجاج
بی جے پی کارکنوں نے اجے رائے کے مبینہ بیان کے خلاف شدید احتجاج کیا اور ان پر وزیر اعظم کی توہین کا الزام لگایا۔ دوسری جانب اجے رائے نے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کو اے آئی سے تیار شدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیان ان کا نہیں ہے۔ اس معاملے کے بعد نہ صرف اجے رائے کو عوامی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ کانگریس بھی سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ کئی صارفین نے کانگریس پارٹی کی اخلاقیات اور سیاسی اقدار پر سوالات اٹھائے ہیں۔
پی ایم نے کی تھی نیک خواہشات کا اظہار
حال ہی میں ایک عوامی پروگرام کے دوران اجے رائے کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی تھی اور وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے تھے، جس کے بعد انہیں لکھنؤ کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ جب ان کی خرابیٔ صحت کی خبر سامنے آئی تو وزیر اعظم نریندر مودی نے اسی رات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ان کی جلد صحت یابی کی دعا کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اجے رائے کی اچانک طبیعت خراب ہونے کی خبر سن کر فکر مند ہیں۔
امت مالویہ کا سخت ردعمل
بی جے پی آئی ٹی سیل کے انچارج امت مالویہ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ چند دن پہلے جب اجے رائے بیمار تھے تو وزیر اعظم مودی نے عوامی طور پر ان کی جلد صحت یابی کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن آج وہی اجے رائے وزیر اعظم کے خلاف غیر مہذب زبان استعمال کرتے نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ یہی کانگریس کی سیاست کا معیار ہے، جہاں شائستگی کا جواب بدزبانی سے دیا جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



