پیر کو ایک سرکاری پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی) نے ان 32 ہوائی اڈوں پر دوبارہ کام شروع کر دیا ہے جو کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ فوجی تعطل کے بعد عارضی طور پر بند کر دیے گئے تھے۔ تاہم اے اے آئی نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ باقاعدہ اپ ڈیٹس کے لیے براہ راست ایئر لائن کے فلائٹ اسٹیٹس چیک کریں۔
ہند-پاک کشیدگی کے درمیان بند کیے گئے ایئرپورٹس
واضح رہے کہ 9 مئی کو شروع ہونے والی سول فلائٹ سروسز کی معطلی نے سرینگر اور امرتسر سمیت شمالی اور مغربی ہندوستان کے کئی اہم ہوائی اڈوں کو متاثر کیا تھا۔ سرحد پر کشیدگی میں اضافے کے بعد عارضی طور پر ان ایئرپورٹس کی بندش کا آغاز کیا گیا اور فلائٹ آپریشن 15 مئی تک معطل کرنے کے نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ ان ہوائی اڈوں کے دوبارہ کھلنے سے ہزاروں مسافروں، ایئر لائن کے عملے اور بند سے متاثر ہونے والے کاروباروں کو بہت زیادہ راحت ملے گی۔
اے اے آئی کے ایک ترجمان نے کہا ’’مسافروں اور آپریشنل عملے کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ خدمات کو معمول پر لانے کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری پروٹوکول پر عمل کیا جائے گا۔ دریں اثنا انڈیگو ایئر لائنز نے ایک بیان میں کہا ’’حکومتی ہدایات کے مطابق ہوائی اڈے آپریشن کے لیے کھل گئے ہیں۔ ہم آہستہ آہستہ ان پر آپریشن شروع کریں گے۔ منسوخ شدہ ٹکٹوں پر رقم کی واپسی 22 مئی تک نافذ ہے۔‘‘
درج ذیل ہوائی اڈے ہوئے ہیں شروع:
امبالا (ہریانہ)، ہندن (یو پی)، نلیہ (گجرات)، سرساوا (یوپی)، اترلائی (راجستھان)، سرینگر، اونتی پورہ اور جموں (جے اینڈ کے)، امرتسر، چندی گڑھ، لدھیانہ، پٹیالہ، بھٹنڈا، آدم پور ہلوارہ اور پٹھان کوٹ (پنجاب)، بھونتر، شملہ اور کنگرا گگل (ہماچل)، کشن گڑھ (راجستھان)، تھوائس اور لیہہ (لداخ)، مندرا، جام نگر، ہیراسر، پوربندر، کیشود، کنڈلا اور بھُج (گجرات) اور جیسلمیر، جودھ پور اور بیکانیر (راجستھان)۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


