Bharat Express DD Free Dish

AIMJ Questions Uttarakhand’s Madrasa Decision: اتراکھنڈ کے مدارس سے متعلق فیصلے پر آل انڈیا مسلم جماعت نے اٹھائے سوال، ساجد رشیدی کے بیان کو بتایا شرمناک

آل انڈیا مسلم جماعت کے سربراہ مولانا شہاب الدین نے جموں و کشمیر کے ڈھاکہ نقشہ تنازع، وندے ماترم اور قومی ترانے سے متعلق نئی ہدایات، خواتین کے بارے میں مولانا ساجد رشیدی کے متنازع بیان اور اتراکھنڈ کابینہ کی جانب سے مدارس کو دی جانے والی سرکاری گرانٹ بند کرنے کے فیصلے پر اپنا ردعمل ظاہر کیا۔

آل انڈیا مسلم جماعت کے سربراہ مولانا شہاب الدین۔

بریلی: آل انڈیا مسلم جماعت کے سربراہ مولانا شہاب الدین نے جموں و کشمیر کے ڈھاکہ نقشہ تنازع، وندے ماترم اور قومی ترانے سے متعلق نئی ہدایات، خواتین کے بارے میں مولانا ساجد رشیدی کے متنازع بیان اور اتراکھنڈ کابینہ کی جانب سے مدارس کو دی جانے والی سرکاری گرانٹ بند کرنے کے فیصلے پر اپنا ردعمل ظاہر کیا۔

مدارس کو نشانہ بنا رہی ہے اتراکھنڈ حکومت

مولانا شہاب الدین نے آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اتراکھنڈ حکومت مسلسل مدارس کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ مسلمانوں کی نئی نسل اسلامی دینی تعلیم سے محروم رہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ریاست میں 250 مدارس بند کیے گئے، پھر مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کو ختم کر دیا گیا اور اب مدارس کو ملنے والی سرکاری گرانٹ بھی بند کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق ریاستی حکومت عربی، فارسی اور اردو کی تعلیمی روایت کو ختم کرکے مسلمانوں کو ان زبانوں کی تعلیم سے محروم رکھنا چاہتی ہے تاکہ یہ قوم ترقی نہ کر سکے۔

جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ

مولانا شہاب الدین نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور بہت جلد وہ بھی بھارت میں شامل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام امن چاہتے ہیں اور دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد وہاں ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتیں اور عوام جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینے کے خواہاں ہیں۔ خاص طور پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور میرواعظ سمیت کئی رہنما مسلسل اس مطالبے کو اٹھاتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کا درجہ بحال ہونے سے ترقی کی رفتار مزید تیز ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو چاہیے کہ جموں و کشمیر کو جلد از جلد ریاست کا درجہ دے، کیونکہ یہ کشمیر کے مفاد میں ہوگا۔

ساجد رشیدی کے بیان کی مذمت

خواتین سے متعلق مولانا ساجد رشیدی کے متنازع بیان پر ردعمل دیتے ہوئے مولانا شہاب الدین نے کہا کہ اسلام میں لڑکے اور لڑکی کے 14 سے 15 برس کی عمر میں بالغ ہونے کا ذکر ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سمجھ بوجھ کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں اور اپنے فیصلے خود کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ اس عمر میں لڑکیوں کی شادی نہ کی جائے تو ان کے ساتھ زیادتی ہو جائے گی، نہ صرف غلط بلکہ انتہائی شرمناک بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس طرح کے بیانات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

وندے ماترم اور قومی ترانے سے متعلق نئی ہدایات

مولانا شہاب الدین نے کہا کہ وزارت داخلہ نے وندے ماترم اور قومی ترانے سے متعلق جو نئی ہدایات جاری کی ہیں، وہ صرف سرکاری دفاتر کے لیے ہیں۔ یہ ہدایات عوامی پروگراموں پر لاگو نہیں ہوتیں، اس لیے ان کی مخالفت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو لوگ وندے ماترم یا قومی ترانہ نہیں گانا چاہتے، ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ڈالا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read