سپریم کورٹ نے احمدآباد ایئر انڈیا طیارہ حادثہ معاملے میں ایک طالب علم کی جانب سے دائر کی گئی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے درخواست گزار کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرنے کے بجائے اپنی تعلیم پر توجہ دے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس حادثے کی تحقیقات پہلے ہی مقررہ طریقۂ کار کے مطابق ہو رہی ہیں اور مزید غیر ضروری عرضیاں اس عمل میں خلل ڈال سکتی ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب احمدآباد کے میگھانی نگر علاقے میں ایئر انڈیا کا ایک طیارہ ٹیک آف کے محض پانچ منٹ بعد ہی حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں 242 مسافر اور 10 عملے کے ارکان سوار تھے، جن میں سے بیشتر کی موت موقع پر ہی ہو گئی تھی۔ طیارے کے پائلٹ کیپٹن سُمیت سبھروال اور فرسٹ آفیسر کلائیو کندر بھی اس حادثے میں جاں بحق ہوئے۔ اس اندوہناک سانحے نے پورے ملک کے ساتھ عالمی سطح پر بھی سنسنی پیدا کر دی تھی، کیونکہ مسافروں میں 53 برطانوی، 7 پرتگالی اور ایک کینیڈین شہری شامل تھے۔
عدالت میں کارروائی
سماعت کے دوران جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی کی بنچ نے طالب علم کی درخواست کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے پر عدالت کو مزید کسی طالب علم یا غیرمتعلقہ فریق کی مداخلت کی ضرورت نہیں۔ جسٹس سوریہ کا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “بیٹا، آپ اپنی پڑھائی پر توجہ دیں، یہ معاملہ ماہرین اور عدالتوں کے دائرۂ کار میں ہے“۔ بینچ نے تاہم اس کیس میں پائلٹ کے والد کی جانب سے دائر درخواست پر مرکز سے جواب طلب کیا ہے۔ پائلٹ کے 91 سالہ والد نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ حادثے کی عدالتی نگرانی میں غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔
پائلٹ کے والد کی اپیل
کیپٹن سبھروال کے والد نے اپنی عرضی میں مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جانبدارانہ اور تکنیکی اعتبار سے ناقص ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ادارے نے حادثے کی تمام تر ذمہ داری پائلٹ پر ڈال دی ہے، جبکہ طیارے میں موجود تکنیکی خامیوں کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے اے آئی بی) کی جانب سے کی گئی تحقیقات کو منسوخ کرتے ہوئے ایک نئی ایس آئی ٹی (خصوصی تحقیقاتی ٹیم) تشکیل دی جائے جو عدالتی نگرانی میں کام کرے۔ درخواست میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ اے اے آئی بی کے بعض افسران نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ کیپٹن سبھروال نے پرواز کے دوران انجنوں کی فیول سپلائی بند کر دی تھی۔ پائلٹ کے والد نے اسے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس الزام کی وضاحت کرنی چاہیے اور مکمل تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے لانی چاہیے۔
عدالت میں بحث
پائلٹ کے والد کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کو دو ماہ قبل نوٹس جاری کیا گیا تھا، مگر اب تک کوئی جواب داخل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے حادثوں کی صرف اے اے آئی بی تحقیقات کافی نہیں ہوتیں بلکہ ان کی عدالتی تحقیقات بھی لازمی ہیں۔ اس پر حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ طیارہ حادثات کی تحقیقات کے لیے ایک بین الاقوامی نظام موجود ہے جسے “انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن” (آئ سی اے او) چلاتی ہے۔ ان کے مطابق، ہر ملک کے نمائندے بین الاقوامی پروٹوکول کے مطابق تحقیقات میں شامل ہوتے ہیں۔ مہتا نے مزید کہا کہ “میں پائلٹ کے والد کے جذبات سمجھ سکتا ہوں، لیکن کسی پر الزام لگانے سے پہلے مکمل حقائق سامنے آنے ضروری ہیں“۔ جسٹس باگچی نے دورانِ سماعت کہا کہ اے اے آئی بی کی تحقیقات کا مقصد کسی کو مجرم ٹھہرانا نہیں بلکہ حادثے کی وجوہات واضح کرنا ہوتا ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے سانحات سے بچا جا سکے۔
حکومت اور خاندان کے بیچ اختلاف
ادھر کیپٹن سبھروال کے والد نے حال ہی میں مرکز کو ایک جذباتی خط لکھا تھا، جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی رپورٹ میں ایئرلائن کو کلین چٹ دیتے ہوئے ان کے بیٹے پر ناحق الزام عائد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں غلط خبریں پھیلائی جا رہی ہیں کہ پائلٹ ذہنی دباؤ میں تھا یا اس نے جان بوجھ کر حادثہ کیا۔ ان خبروں نے ان کے بیٹے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
حادثے کا پس منظر
یہ حادثہ اُس وقت پیش آیا جب احمدآباد ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے کے چند منٹ بعد ہی طیارہ میگھانی نگر علاقے میں ایک عمارت سے ٹکرا گیا۔ اس طیارے میں کئی اہم شخصیات سوار تھیں، جن میں گجرات کے سابق وزیراعلیٰ وجے روپانی، کارگو موٹرز کے سربراہ نندا اور لُوبی لمیٹڈ کے ڈائریکٹر سوبھاش امین بھی شامل تھے۔ حادثے کے بعد ملبہ کئی گھنٹوں تک جلتا رہا اور بیشتر لاشیں اس قدر جھلس گئی تھیں کہ ان کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ممکن ہوئی۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے مرکز کو ہدایت دی ہے کہ وہ تفصیلی جواب داخل کرے۔ کیس کی آئندہ سماعت آئندہ ماہ کے دوسرے ہفتے میں متوقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


