Bharat Express DD Free Dish

Galgotias Claim Questioned: چینی روبوٹ ڈاگ تنازع کے بعد گلگوٹیاز یونیورسٹی کا ایک اور دعویٰ سوالوں کی زد میں

گلگوٹیاز یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ روبوٹک ڈاگ کو تعلیمی مقاصد کے لیے خریدا گیا تھا اور اسے سیکھنے کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی نے دعویٰ کیا کہ اس نے کبھی یہ نہیں کہا کہ یہ ڈیوائس اس کی اپنی تیار کردہ ہے۔ یہ معاملہ ٹیکنالوجی کی ملکیت اور اختراع کے دعوؤں سے متعلق شفافیت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بحث کا باعث بنا ہوا ہے۔

نئی دہلی: گلگوٹیاز یونیورسٹی ایک بار پھر سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں آگئی ہے۔ یونیورسٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے گریٹر نوئیڈا کیمپس میں اساتذہ اور طلبہ نے ایک ساکر ڈرون مکمل طور پر خود تیار کیا ہے، تاہم آن لائن صارفین نے اس دعوے پر سوال اٹھائے ہیں۔ یہ معاملہ اسی دن سامنے آیا جب ذرائع کے مطابق انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے ایکسپو ایریا سے یونیورسٹی کو الگ ایک تنازع کے بعد ہٹانے کو کہا گیا تھا۔ وزارت آئی ٹی نے یونیورسٹی کو ہدایت دی کہ وہ سمٹ میں اپنے اسٹال کو فوری طور پر خالی کرے۔ اس کے بعد یونیورسٹی کے اسٹال سے تمام آلات اور پیش کی جانے والی ٹیکنالوجی کو ہٹا دیا گیا۔ تاہم، ڈاکٹر ایشوریہ سری واستو نے وضاحت دی کہ انہیں سمٹ چھوڑنے کا کوئی باقاعدہ حکم نہیں ملا ہے اور یونیورسٹی اگلے دو دن تک نمائش میں شامل رہے گی۔

ڈرون پر یونیورسٹی تنقید کی زد میں

 یونیورسٹی کی جانب سے کہا گیا کہ ڈرون اینڈ ٹو اینڈ انجینئرنگ کے ذریعے تیار کیا گیا اور کیمپس میں ’’بھارت کا پہلا ساکر ایرینا‘‘ بھی قائم کیا گیا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ یہ ڈرون دراصل Striker V3 ARF نامی ایک کمرشل ماڈل ہے، جسے تقریباً 40 ہزار روپے میں خریدا جا سکتا ہے۔ یہ ماڈل جنوبی کوریا کی کمپنی Helsel Group کی تیار کردہ Helsel Striker V3 سیریز سے منسوب بتایا جاتا ہے، جو ڈرون اسپورٹس کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

روبوٹک کتے کا تنازع

اس سے قبل ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں یونیورسٹی کے نمائندے چار ٹانگوں والے روبوٹ کو اپنے سینٹر آف ایکسی لینس کی تیاری قرار دیتے دکھائی دیے۔ بعد میں سوشل میڈیا صارفین نے اس روبوٹ کو Unitree Go2 کے طور پر شناخت کیا، جو چینی کمپنی Unitree Robotics تیار کرتی ہے۔ یہ روبوٹ بھارت میں تقریباً 2 سے 3 لاکھ روپے میں فروخت ہوتا ہے۔ سمٹ میں اسے ’’Orion‘‘ کے نام سے پیش کیا گیا تھا۔

یونیورسٹی کا موقف

گلگوٹیاز یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ روبوٹک ڈاگ کو تعلیمی مقاصد کے لیے خریدا گیا تھا اور اسے سیکھنے کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی نے دعویٰ کیا کہ اس نے کبھی یہ نہیں کہا کہ یہ ڈیوائس اس کی اپنی تیار کردہ ہے۔ یہ معاملہ ٹیکنالوجی کی ملکیت اور اختراع کے دعوؤں سے متعلق شفافیت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بحث کا باعث بنا ہوا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read