آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم میں اڈانی کونیکس اور گوگل کی شراکت داری سے بننے والے تقریباً ایک گیگاواٹ صلاحیت کے اے آئی ڈیٹا سینٹر منصوبے کو لے کر تنازع گہرا ہو گیا ہے۔ ڈیٹا سینٹر کے سبب مقامی آبی ذخائر اور ماحولیات پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کے درمیان کمپنی نے پانی بچانے کے لیے نئی ٹیکنالوجی اپنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بڑھتی ہوئی مانگ کے درمیان آندھرا پردیش میں ریلائنس اور ایئرٹیل جیسی کمپنیاں بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ تاہم، اڈانی اور گوگل کا جدید ایئر کولنگ ٹیکنالوجی اپنانے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ماحولیات کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا کتنا ضروری ہو گیا ہے۔
ایئر کولنگ ٹیکنالوجی سے بچے گا شہر کا پانی
ڈیٹا سینٹر کے بڑے سرورز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے عام طور پر استعمال ہونے والے پانی پر مبنی بخاراتی نظام (ایوپوریٹو کولنگ) کی جگہ اب ہوا پر مبنی کولنگ ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس تبدیلی سے منصوبے کے تینوں مقامات پر تازہ پانی کی مجموعی کھپت اولمپک سائز کے ایک سوئمنگ پول سے بھی کم رہ جائے گی۔
مقامی پینے کے پانی کی فراہمی پر اثر نہیں پڑے گا
منصوبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق، احاطوں میں استعمال ہونے والے محدود تازہ پانی کا تقریباً 80 فیصد حصہ باغبانی، باورچی خانے اور ملازمین کی سہولتوں کے لیے استعمال ہوگا۔ اس کے علاوہ، گھریلو پینے کے پانی کی فراہمی پر دباؤ نہ پڑے، اس کے لیے میونسپل کارپوریشن کے بجائے الگ صنعتی آبی سپلائی کنکشن لیے جائیں گے۔ احاطے سے نکلنے والے گندے پانی کو 100 فیصد صاف کرکے دوبارہ استعمال کیا جائے گا۔ زیرو ڈسچارج پالیسی کے تحت اس پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنایا جائے گا اور اسے قریبی مداسرلووا آبی ذخیرے میں نہیں چھوڑا جائے گا۔
مداسرلووا آبی ذخیرے اور جنگلی حیات کی پناہ گاہ پر خطرہ تھا
وشاکھاپٹنم میں مداسرلووا آبی ذخیرہ شہر کے پینے کے پانی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس کے قریب ہی کمبالاکونڈا جنگلی حیات کی پناہ گاہ واقع ہے۔ ماحولیاتی کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بڑے پیمانے پر پانی نکالنے سے آبی ذخیرہ خشک ہو سکتا ہے اور جنگلی حیات پر اس کے منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ ریاستی حکومت کے مطابق، منصوبے کی صلاحیت 6.5 گیگاواٹ تک بڑھائے جانے کی صورت میں سالانہ 3 ٹی ایم سی پانی کی ضرورت پڑ سکتی تھی۔ اسی خدشے کے بعد تنازع شدت اختیار کر گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



