Bharat Express DD Free Dish

Adani Group Renewable-Powered AI Data Centers: اڈانی گروپ کی جانب سے 100 ارب ڈالر کا اے آئی ڈیٹا سینٹر منصوبہ، بھارت کے لیے گیم چینجر ثابت ہونے کا امکان

اڈانی گروپ کی جانب سے 2035 تک قابلِ تجدید توانائی سے چلنے والے اور مصنوعی ذہانت کے لیے تیار ہائپر اسکیل ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے 100 ارب ڈالر کے مجوزہ منصوبے کو بھارت کے لیے ایک ممکنہ گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ بات ایک بین الاقوامی نیوز پورٹل میں شائع رپورٹ میں کہی گئی ہے، جس کے مطابق یہ سرمایہ کاری عالمی اے آئی معیشت میں بھارت کے کردار کو نئی سمت دے سکتی ہے۔

نئی دہلی: اڈانی گروپ کی جانب سے 2035 تک قابلِ تجدید توانائی سے چلنے والے اور مصنوعی ذہانت کے لیے تیار ہائپر اسکیل ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے 100 ارب ڈالر کے مجوزہ منصوبے کو بھارت کے لیے ایک ممکنہ گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ بات ایک بین الاقوامی نیوز پورٹل میں شائع رپورٹ میں کہی گئی ہے، جس کے مطابق یہ سرمایہ کاری عالمی اے آئی معیشت میں بھارت کے کردار کو نئی سمت دے سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سب سے پہلے اس منصوبے کا حجم توجہ حاصل کرتا ہے۔ اڈانی گروپ کی جانب سے براہِ راست 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سرور مینوفیکچرنگ، جدید برقی نظام، خود مختار کلاؤڈ پلیٹ فارمز اور متعلقہ صنعتوں میں مزید 150 ارب ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کو تحریک دے سکتی ہے۔ اس طرح آئندہ دہائی میں بھارت میں تقریباً 250 ارب ڈالر کا اے آئی انفراسٹرکچر ایکو سسٹم وجود میں آ سکتا ہے۔

اڈانی گروپ اپنی موجودہ 2 گیگاواٹ ڈیٹا سینٹر صلاحیت کو بڑھا کر 5 گیگاواٹ تک لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس توسیع کے بعد بھارت دنیا کے سب سے بڑے مربوط قابلِ تجدید توانائی سے چلنے والے اے آئی ڈیٹا سینٹر پلیٹ فارمز میں شامل ہو سکتا ہے۔ منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ اسے توانائی اور کمپیوٹنگ کے ایک مربوط ماڈل کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اڈانی گروپ نے اس سلسلے میں کئی اہم اسٹریٹجک شراکت داریاں بھی کی ہیں۔ امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے ساتھ وشاکھاپٹنم میں گیگاواٹ سطح کا اے آئی ڈیٹا سینٹر کیمپس قائم کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔ اسی طرح مائیکروسافٹ کے ساتھ حیدرآباد اور پونے میں بڑے ڈیٹا سینٹر کیمپس تیار کرنے کی حکمت عملی پر کام جاری ہے۔

اس کے علاوہ کمپنی فلپ کارٹ کے ساتھ بھی اعلیٰ کارکردگی والے ڈیجیٹل کامرس اور بڑے پیمانے پر اے آئی ورک لوڈز کے لیے ایک نئی اے آئی مرکوز سہولت قائم کرنے پر بات چیت کر رہی ہے۔ ان شراکت داریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ منصوبہ محض بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں بلکہ ڈیجیٹل معیشت کے مختلف شعبوں کو جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ روایتی ڈیٹا سینٹر منصوبوں کے برعکس، یہ 5 گیگاواٹ پروجیکٹ قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار، ٹرانسمیشن نیٹ ورک، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور ہائپر اسکیل اے آئی کمپیوٹنگ کو ایک ہی مربوط فریم ورک میں شامل کرتا ہے۔ اس سے توانائی کے بیک اپ اور کمپیوٹنگ صلاحیت میں بیک وقت اضافہ ممکن ہو سکے گا، جو جدید اے آئی ایپلی کیشنز کے لیے نہایت ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق جدید اے آئی ریکس اکثر فی یونٹ 30 کلوواٹ یا اس سے زائد بجلی استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث توانائی کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی سطح پر اے آئی کے بڑھتے استعمال نے بجلی کی دستیابی اور کاربن اخراج کے حوالے سے خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔ ایسے میں اڈانی گروپ اپنی توسیعی حکمت عملی کو مکمل طور پر قابلِ تجدید توانائی پر مبنی بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس منصوبے کی بنیاد گجرات میں واقع 30 گیگاواٹ صلاحیت کے خواڑا قابلِ تجدید توانائی پروجیکٹ پر رکھی گئی ہے، جس میں سے 10 گیگاواٹ سے زائد صلاحیت پہلے ہی فعال ہو چکی ہے۔ مزید برآں گروپ نے قابلِ تجدید توانائی کی مجموعی صلاحیت بڑھانے کے لیے 55 ارب ڈالر اضافی سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا ہے، جس میں دنیا کے بڑے بیٹری توانائی ذخیرہ نظاموں میں سے ایک شامل ہوگا۔

عالمی سپلائی چین میں حالیہ رکاوٹوں نے ٹرانسفارمرز، پاور الیکٹرانکس اور گرڈ سسٹمز کی فراہمی میں کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے۔ اسی تناظر میں اڈانی گروپ ملک کے اندر اعلیٰ صلاحیت والے ٹرانسفارمرز، جدید پاور الیکٹرانکس، انورٹرز اور صنعتی حرارتی انتظامی حل تیار کرنے کے لیے مقامی شراکت داریوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس اقدام سے بیرونی انحصار میں کمی اور ملکی صنعتی بنیاد کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ اپنی مکمل رفتار سے آگے بڑھتا ہے تو بھارت مستقبل میں محض ڈیٹا ہب نہیں رہے گا بلکہ اگلی نسل کے اے آئی انفراسٹرکچر کا بڑا تیار کنندہ اور برآمد کنندہ بھی بن سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read