Bharat Express DD Free Dish

A tax reform that empowered every Indian: جی ایس ٹی کے آٹھ سال: ایک ٹیکس اصلاح جو ہر بھارتی کو بااختیار بناتی ہے

جی ایس ٹی کا آغاز 2000 میں اٹل بہاری واجپائی کی حکومت کے تحت ایک تصور کے طور پر ہوا، جب ریاستی وزرائے خزانہ کی ایک بااختیار کمیٹی تشکیل دی گئی۔ تاہم، اسے عملی شکل دینے میں نریندر مودی کی قیادت، سیاسی عزم، اور تمام ریاستیوں کو متفق کرنے کی صلاحیت نے کلیدی کردار ادا کیا۔

یکم جولائی 2025 کو گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے نفاذ کے آٹھ سال مکمل ہو گئے، جسے بھارت کی سب سے بڑی ٹیکس اصلاح کے طور پر سراہا جاتا ہے۔ اسے “ون نیشن، ون ٹیکس” کے وژن کے تحت متعارف کرایا گیا تھا، جس نے بھارت کو ایک متحدہ قومی مارکیٹ میں تبدیل کر دیا۔ جی ایس ٹی نے 17 مرکزی اور ریاستی ٹیکسوں اور 13 سیسز کو ایک واحد، منزل پر مبنی، کثیر مرحلہ جاتی ٹیکس نظام میں ضم کر دیا، جو کہ مینوفیکچرنگ سے لے کر استعمال تک کے مراحل پرنافذ ہوتا ہے۔ اس نظام کے تحت ہر مرحلے پر ادا کیے گئے ان پٹ ٹیکس کا کریڈٹ اگلے مرحلے میں ویلیو ایڈیشن کے لیے دستیاب ہوتا ہے، جس سے ٹیکس صرف اضافی قیمت پر عائد ہوتا ہے۔ اس سے کاروباری اخراجات کم ہوئے، شفافیت بڑھی، اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے لیے کاروبار کا ماحول بہتر ہوا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے ایک “تاریخی اصلاح” قرار دیا، جس نے نہ صرف معاشی ترقی کو فروغ دیا بلکہ ریاستیں اور مرکز کے درمیان تعاون پر مبنی وفاقیت کو مضبوط کیا۔ مالی سال 2024-25 میں جی ایس ٹی کی مجموعی وصولی 22.08 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 9.4 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے، جبکہ فعال ٹیکس دہندگان کی تعداد 1.51 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔

جی ایس ٹی کا آغاز 2000 میں اٹل بہاری واجپائی کی حکومت کے تحت ایک تصور کے طور پر ہوا، جب ریاستی وزرائے خزانہ کی ایک بااختیار کمیٹی تشکیل دی گئی۔ تاہم، اسے عملی شکل دینے میں نریندر مودی کی قیادت، سیاسی عزم، اور تمام ریاستیوں کو متفق کرنے کی صلاحیت نے کلیدی کردار ادا کیا۔ 101ویں آئینی ترمیم کے ذریعے، جی ایس ٹی نے متعدد پیچیدہ ٹیکسوں جیسے کہ ایکسائز ڈیوٹی، سروس ٹیکس، اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس (ویٹ) کو ختم کر دیا، جس سے لاجسٹکس کے اخراجات میں کمی آئی اور ریاستی سرحدوں پر چیک پوسٹس کی وجہ سے ہونے والی تاخیر ختم ہوئی۔ ڈیلوئٹ کے GST@8 سروے کے مطابق، 85 فیصد کاروباری رہنماؤں نے اس نظام کے ساتھ مثبت تجربہ رپورٹ کیا، جس میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسے کہ ای-انوائسنگ اور ای-وے بلز نے تعمیل کو آسان بنایا۔ اس سے نقل و حمل کے وقت میں 33 فیصد بہتری آئی، ایندھن کے اخراجات کم ہوئے، اور صارفین کے لیے ضروری اشیا جیسے اناج، خوردنی تیل، اور چینی پر ٹیکس کی شرحیں کم ہونے سے ماہانہ اخراجات میں تقریباً 4 فیصد کی بچت ہوئی۔ تاہ,م، ناقدین جیسے کہ راہل گاندھی نے اسے “معاشی ناانصافی” کا ذریعہ قرار دیا، یہ الزام لگاتے ہوئے کہ پانچ سلیب کا ٹیکس ڈھانچہ اور 900 سے زائد ترامیم نے اسے چھوٹے تاجروں کے لیے پیچیدہ بنا دیا ہے۔

جی ایس ٹی کے آٹھ سالہ سفر میں کئی چیلنجز بھی رہے، جیسے کہ ابتدائی تکنیکی مسائل، GSTN پورٹل میں مشکلات، اور کثیر سلیب ڈھانچے کی وجہ سے تنازعات۔ تاہم، GST کونسل نے 55 اجلاسوں میں نظام کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کرائیں، جن میں شرحوں کو عقلی بنانا اور ڈیجیٹل تعمیل کو فروغ دینا شامل ہے۔ پبلک واٹر ہولز کے ایک رپورٹ کے مطابق، صنعت اب تین سلیب کے ڈھانچے اور پیٹرولیم مصنوعات کو GST کے دائرے میں شامل کرنے کی مانگ کر رہی ہے تاکہ تنازعات کم ہوں اور تعمیل آسان ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ GST 2.0 کا اگلا مرحلہ، جو کہ ٹیکس بیس کو وسعت دینے اور تنازعات کے حل کے نظام کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے، بھارت کی معاشی ترقی کو مزید مستحکم کرے گا۔ اس کے باوجود، راہل گاندھی جیسے ناقدین کا اصرار ہے کہ موجودہ نظام بڑے کارپوریٹس کو فائدہ دیتا ہے اور چھوٹے کاروباریوں پر بوجھ ڈالتا ہے۔ بہرحال، جی ایس ٹی نے بھارت کے معاشی ڈھانچے کو ڈیجیٹلائزیشن، شفافیت، اور کاروباری سہولت کے ذریعے مضبوط کیا ہے، اور یہ ایک جاری عمل ہے جو مستقبل میں مزید اصلاحات کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read