نئی دہلی: راجستھان کے ضلع سوائی مادھوپور کے گنگاپور سٹی سب ڈویژن کے بامن واس علاقے کے لیوالی گاؤں میں واقع ایک سرکاری ہائر سیکنڈری اسکول سے انتہائی شرمناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ ایک خاتون ٹیچر کے 500 روپے گم ہونے کے بعد نویں اور گیارہویں جماعت کی طالبات کو ایک کمرے میں بند کر کے ان کے کپڑے اتروا کر تلاشی لی گئی، جس کے بعد طالبات شدید ذہنی صدمے اور شرمندگی کا شکار ہو گئیں۔اطلاعات کے مطابق راجکیہ اُچّہ مادھیَمِک ودیالیہ میں تعینات ایک خاتون ٹیچر کے 500 روپے کلاس روم سے گم ہو گئے تھے۔ کافی تلاش کے باوجود رقم نہ ملنے پر انہوں نے شک کی بنیاد پر نویں اور گیارہویں جماعت کی طالبات کو الگ کمرے میں لے جا کر کپڑے اتروا کر تلاشی لینے کا حکم دیا۔ واقعے کے بعد متاثرہ طالبات نے گھر جا کر اپنے والدین کو پوری تفصیل بتائی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی والدین اور مقامی دیہاتی مشتعل ہو گئے اور اسکول پہنچ کر شدید احتجاج کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے بڑی تعداد میں دیہاتی اسکول کے باہر جمع ہو گئے اور احتجاج کے دوران اسکول کو تالا لگا دیا گیا۔ اطلاع ملنے پر بامن واس کی قائم مقام چیف بلاک ایجوکیشن آفیسر (سی بی ای او) پرتھیبھا مینا اور پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی۔ حکام نے طالبات اور دیہاتیوں کے بیانات قلمبند کیے اور معاملے کی ابتدائی جانچ شروع کی۔احتجاج کرنے والے دیہاتیوں نے واقعے میں ملوث دونوں خاتون اساتذہ کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔ معاملہ اعلیٰ حکام تک پہنچنے کے بعد محکمہ تعلیم نے کارروائی کرتے ہوئے سینئر ٹیچر (ہندی) سرسوتی مینا کو سنگین شکایات کی بنیاد پر فوری اثر سے معطل کر دیا۔ معطلی کے دوران ان کا ہیڈکوارٹر راجاکھیڑا، ضلع دھول پور کے چیف بلاک ایجوکیشن آفیسر کے دفتر میں مقرر کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ پیشہ ورانہ تعلیم کی انسٹرکٹر وندنا شرما کو بھی سروس فراہم کرنے والی کمپنی کی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔جوائنٹ ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن، بھرت پور، دلویر سنگھ نے بتایا کہ ضلع تعلیم افسر، سوائی مادھوپور کی رپورٹ کی بنیاد پر سرسوتی مینا کے خلاف محکمہ جاتی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان سول سروسز (درجہ بندی، کنٹرول اور اپیل) قواعد 1958 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر معطل کیا گیا ہے۔محکمہ تعلیم کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے تک خاتون ٹیچر کو قواعد کے مطابق گزارہ بھتہ (سبسسٹنس الاؤنس) دیا جائے گا۔ دوسری جانب اس واقعے نے ریاست میں سرکاری اسکولوں میں طالبات کی حفاظت، وقار اور انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ مقامی افراد نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


