مدھیہ پردیش کے گُنا ضلع میں ہفتہ کی شام حکام کی اجازت کے بغیر نکالے جا رہے ہنومان جینتی کے جلوس پر مبینہ حملے کے سلسلے میں اب تک نو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والے سبھی افراد کا تعلق اقلیتی برادری سے ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق نو افراد بشمول مرکزی ملزم اور ہسٹری شیٹر وکی خان کو، جسے جلوس پر مبینہ حملے کا ماسٹر مائنڈ بتایا جارہا ہے، اتوار کی دوپہر تک مقامی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
یہ واقعہ گُنا شہر کے فرقہ وارانہ طور پر حساس علاقے کرنال گنج میں مبینہ واقعہ شام 7:30 بجے کے قریب پیش آیا، جب ہنومان جینتی جلوس کی قیادت مقامی بی جے پی میونسپل کونسلر اوم پرکاش کر رہے تھے اور وہ مبینہ طور پر توہین آمیز مذہبی نعرے لگاتے ہوئے حساس علاقے سے گزر رہے تھے۔ جب جلوس عبادت گاہ کے قریب پہنچا تو وکی خان کی قیادت میں کچھ لوگوں نے اونچی آواز میں ڈی جے میوزک اور توہین آمیز مذہبی نعروں پر اعتراض کیا۔ جس کے بعد دونوں گروپس میں گرماگرم بحث اچانک تشدد میں تبدیل ہو گئی۔
بی جے پی کونسلر کی شکایت پر پولیس نے نو افراد کو کیا گرفتار
بی جے پی کونسلر اوم پرکاش نے اپنی شکایت میں کہا ہے ’’جب بحث جاری تھی، تب مسجد کے اوپر سے لوگوں نے جلوس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ جلوس پر وکی خان کے گھر سمیت مسجد کے آس پاس کے گھروں کے لوگوں کی طرف سے پتھراؤ کیا گیا۔ وکی کے بیٹے امین خان نے جلوس میں شامل ایک عقیدت مند پر پستول سے فائرنگ بھی کی، لیکن اسے گولی نہیں لگی۔ وکی خان اور اس کے لوگوں کے ذریعے کیے گئے اس حملے میں جلوس میں شامل نو سے دس افراد زخمی ہوئے ہیں۔‘‘
بعد میں ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سنجیو کمار سنہا کی قیادت میں پولیس کی بھاری تعداد نے مشکل سے حالات کو قابو میں کیا۔ بی جے پی لیڈر کی شکایت پر گُنا سٹی کوتوالی میں ہفتہ کی رات تقریباً 11 بجے وکی خان سمیت پانچ نامزد اور 15-20 غیرنامز ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ گُنا کے ایس پی مان سنگھ ٹھاکر نے اتوار کے روز کہا ’’نو افراد بشمول مرکزی ملزم اور حملے کے ماسٹر مائنڈ، ہسٹری شیٹر وکی خان اور اس کے ایک بیٹے سمیر کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور دوسرے ملزمین کی تلاش جاری ہے۔‘‘ گرفتار ہونے والے نو افراد میں مرکزی ملزم وکی خان اور اس کے بیٹے سمیر خان کے علاوہ توفیق، سونو، انس، شکیل، عتیق، ساحل اور سہراب شامل ہیں۔ وکی خان سمیت ان میں سے پانچ کی مجرمانہ تاریخ ہے۔
اقلیتی برادری پر کارروائی، لیکن بغیر اجازت جلوس نکالنے والوں پر کوئی کارروائی نہیں
واضح رہے کہ بی این ایس کی دفعہ 109، 296، 324 (4)، 125، 191 (2) اور (3)، 190 اور 115 (2) کے تحت رات دیر گئے ایف آئی آر کے بعد نو افراد کو تو گرفتار کر لیا گیا ہے، لیکن بغیر اجازت سنیچر کی شام کو مذہبی جلوس نکالنے پر بی جے پی کونسلر کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ ہفتہ کی شام کے واقعے کے بعد گُنا ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سنجیو سنہا نے تصدیق کی تھی کہ ہنومان جینتی کا جلوس حکام کی اجازت کے بغیر نکالا جا رہا تھا۔ سنہا نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’میں نے متعلقہ سب ڈویژنل مجسٹریٹ سے اس کی تصدیق کر لی ہے کہ مذہبی جلوس بغیر اجازت کے نکالا جا رہا تھا۔ میں خود سی سی ٹی وی کیمرہ پر اس ساری پیشرفت کی نگرانی کر رہا تھا۔ عبادت گاہ کے قریب جلوس کے رکنے اور جلوس میں شامل افراد کے نعرے لگانے کی وجہ سے کشیدگی پھیل گئی۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
